غیر اسلامی قوانین نافذ کرنے کی کوششیں معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ ہے:راشد محمود
کندھکوٹ (اسٹاف رپورٹر) آئینِ پاکستان کے تحفظ، شریعت سے متصادم قانون سازی کی مزاحمت اور عوامی حقوق کے دفاع کے لیے بھرپور تحریک چلائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار گھنٹہ گھر چوک کندھ کوٹ میں جمعیت علماء اسلام کے تحت عظیم الشان جلسہ عام سے جےیوآئی کے مرکزی ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر انجینئر ضیاء الرحمن ، صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسے کی صدارت صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کی جلسہ عام سے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا شمس الدین بھیری ، مولانا جمال الدین آگاہی ، مولانا خان محمد ملک ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
جےیوآئی کے مرکزی رہنما انجنیئر ضیاءالرحمن نے کہا کہ ملک کی سیاست اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر چل رہی ہے، ایک فریق کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آتا ہے اور دوسرا بددعاؤں کا سہارا لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ایسے تمام عناصر کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے جو اسلام اور جمہوریت دشمن ایجنڈے کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔
صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں غیر اسلامی قوانین نافذ کرنے کی کوششیں معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ ہیں۔
انہوں نے 18 سال سے کم عمر کی شادی کو زنا بالجبر قرار دے کر 10 سال قید کی سزا کے قانون کو شریعت کے منافی اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔
جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ نااہل حکمران طبقہ صوبے کو معاشی تباہی، کرپشن، لاقانونیت اور اداروں کی بربادی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
جےیوآئی کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کراچی، سکھر، اسلام آباد اور اب سندھ کے مختلف علاقوں میں مساجد کو بلڈوز کرنے اور نوابشاہ میں مساجد کو سرکاری تحویل میں لینے کی کوششوں کو خطرناک سازش قرار دیتے ہوئے کہا مدارس و مساجد کسی جاگیردار کی جاگیر نہیں، انہیں سرکاری تحویل میں دینے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں امن و امان تباہ ہوچکا ہے، پبلک سروس کمیشن، لیبر اور لوکل گورنمنٹ سمیت ہر محکمہ کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔
علامہ راشد محمود سومرو نے کارونجھر کی تباہی کو سندھ دشمنی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فیڈرل آئینی عدالت میں دائر مقدمہ فوری واپس لے، ورنہ سندھ بھر میں بھرپور عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔
انہوں نے مدارس کی جبری رجسٹریشن، مساجد کے NOC میں رکاوٹیں اور قومی ورثوں ، کارونجھر، جزائر اور دیگر وسائل کے خفیہ سودوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی سندھ بھر میں عوامی تحریک کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنائے گی۔
