پی اے سی میں کراچی یونیورسٹی انتظامیہ کیجانب سے تاحال تمام داخلے (کے ایس پی) پالیسی کے بنیاد پر کرنے کا انکشاف

پی اے سی میں کراچی یونیورسٹی انتظامیہ کیجانب سے تاحال تمام داخلے (کے ایس پی) پالیسی کے بنیاد پر کرنے کا انکشاف

کراچی:پی اے سی میں کراچی یونیورسٹی انتظامیہ کیجانب سے تاحال تمام داخلے کراچی، سندھ اور پاکستان (کے ایس پی) پالیسی کے بنیاد پر کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے بعد پی اے سی نے کراچی یونیورسٹی انتظامیہ کو کے ایس پی ایڈمیشن پالیسی کا از سرنو جائزہ لینے اور کراچی یونیورسٹی میں تمام داخلے کے ایس پی پالیسی کے بجائے اوپن میرٹ پر سندھ ڈومیسائیل کے بنیاد پر کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

منگل کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کراچی یونیورسٹی کی سال 2021ع سے 2023ع تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری سندھ ھایر ایجوکیشن کمیشن معین صدیقی، قائم مقام وی سی کراچی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ھارث شعیب، رجسٹرار ڈاکٹر عمران صدیقی سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے یونیورسٹی انتظامیہ سے استفسار کیا کے کیا کراچی یونیورسٹی میں داخلے اوپن میرٹ پر ہورہے ہیں یا ابھی تک کے ایس پی پالیسی پر داخلے دئے جا رہے ہیں؟جس پر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر عمران احمد نے پی اے سی کو بتایا کے 1990ع سے سینڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل کی منظوری سے یونیورسٹی میں داخلے کراچی، سندھ اور پاکستان( کے ایس پی) پالیسی پر دئے جا رہے ہیں اور یہ داخلے کی کے ایس پی پالیسی تاحال لاگو ہے تاہم ایک دو فیکلٹیز میں داخلے اوپن میرٹ پر کئے جا رہے ہیں۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے کیا یونیورسٹی انتظامیہ کراچی کو سندھ سے الگ تصور کر رہی ہے جو داخلے کے ایس پی پالیسی پر دئے جا رہے ہیں؟ این ای ڈی اور دیگر جامعات میں داخلے انٹری ٹیسٹ پر میرٹ کے بنیاد پر کئے جاتے ہیں تو پہر کراچی یونیورسٹی میں کے ایس پی ایڈمیشن پالیسی کیوں اپنائی جا رہی ہے؟ نثار کھوڑو نے کہا کے کراچی یونیورسٹی میں میرٹ پر سندھ کا ڈومیسائیل رکھنے والے طلبہ و طالبات کو داخلہ لینے کا حق حاصل ہونا چاہئے اس لئے یونیورسٹی میں کے ایس پی ایڈمیشن پالیسی نہیں ہونی چاہئے۔

کراچی سندھ میں ہے اور کراچی یونیورسٹی میں سندھ کے طلبہ و طالبات کو میرٹ پر داخلے لے کر تعلیم حاصل کرنے کا حق ہونا چاہئے اس لئے کراچی یونیورسٹی انتظامیہ اپنی کے ایس پی ایڈمیشن پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے۔ نثار کھوڑو نے کہا کے جس طرح ملازمتیں سندھ کے ڈومیسائیل پر میرٹ پر دی جارہی ہیں اسی طرح کراچی یونیورسٹی میں بھی داخلے سندھ کے ڈومیسائیل پر ٹیسٹ کے بعد میرٹ پر دئے جائیں۔ اس موقعے پر پی اے سی نے کراچی یونیورسٹی انتظامیہ کو کے ایس پی ایڈمیشن پالیسی کا از سرنو جائزہ لے کر کراچی یونیورسٹی میں تمام داخلے کے ایس پی پالیسی کے بجائے اوپن میرٹ پر سندھ ڈومیسائیل کے بنیاد پر کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

کراچی یونیورسٹی میں شھید بینظیر بھٹو چیئر فنکشنل نہ ہونے پر پی اے سی کا برھمی کا اظھار۔

پی اے سی اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے یونیورسٹی انتظامیہ سے استفسار کیا کے شھید بینظیر بھٹو چیئر کے قیام کے منصوبے پر 422 ملین روہے خرچ ہونے کے بعد یہ منصوبہ یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا تھا 13 سال گذرنے کے باوجود شھید بینظیر بھٹو چیئر فنکشنل کیوں نہیں کی گئی ہے۔ جس پو یونیورسٹی انتظامیہ نے پی اے سی کو بتایا کے شھید بینظیر بھٹو چیئر کو فنکشنل کرانے کے لئے مزید بجیٹ درکار ہے جس کے لئے پی سی ون منظوری کے لئے بھیج دی گئی ہے۔ پی اے سی نے کراچی یونیورسٹی میں شھید بینظیر بھٹو چیئر فنکشنل نہ ہونے پر برھمی کا اظھار کرتے ہوئے چیئر کو فنکشنل کرانے کے لئے یونیورسٹی کی انتظامیہ کو فوری اقدامات لینے کی ہدایت کردی۔

محکمہ صنعت کے ماتحت گورنر ھاؤس میں قائم سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کو سندھ کے سرکاری محکمے سرکاری مواد پرنٹ نہ کرانے کی وجہ سے صرف سال 2022ع اور 2023ع میں 281 ملین کے نقصان کا سامنہ۔

پی اے سی اجلاس میں ڈی جی آڈٹ نے اعتراض اٹھایا کے گورنر ھاوس میں موجود سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس نے سال 2022ع سے سال 2023ع تک 114 ملین کی بجیٹ کے مقابلے میں 395 ملین روہے خرچ کئے ہیں اور یہ پرنٹنگ پریس 1970ع سے اپنے سالانہ اکاؤنٹس مینٹین نہیں کر رہی ہے اور پرنٹنگ پریس روینیو نہیں بڑھا پا رہی جس وجہ سے سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کو چلانے میں 281 ملین کا نقصان کا سامنہ ہے۔ جس پر پرنٹنگ پریس حکام نے پی اے سی کو بتایا کے سندھ حکومت کے بجیٹ بوک، گزیٹ نوٹیفیکیشن سمیت دیگر مواد کی چھپائی سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس سے کی جارہی ہے تاہم سندھ کے سرکاری محکمے پرنٹنگ اور اسٹیشنری کی اپنی اپنی بجیٹ ہونے کے باوجود سرکاری مواد کی چھپائی باھر سے کرا رہے ہیں جس وجہ سے سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کی انکم اور روینیو کی پیداوار نہیں بڑھ رہی ہے جبکے تمام سرکاری محکمے سندھ گورنمنٹ پرنٹ پریس کی این او سی کے بعد باھر سے مواد کی چھپائی کرا سکتے ہیں اور این او سی حاصل کئے بغیر سندھ کے سرکاری محکمے باھر سے مواد کی چھپائی کرا رہے ہیں اگر سرکاری محکمے چھپائی کی رقم کا چالان جمع کرکے سندھ گورنمنٹ پریس سے چھپائی کا کام کروائیں تو روینیو بھی بڑھے گا۔

حکام نے بتایا کے صرف سندھ رینجرز اور محتسب اعلی کو مواد کی باھر سے چھپائی کرانے کی این او سی جاری کی گئی ہے اور دیگر کسی بھی سرکاری محکمے کو این او سی جاری نہیں کی گئی ہے۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کے کیا اس سیکشن میں اتنی کیپیسٹی موجود ہے کے وہ تمام محکموں کے مواد کی چھپائی کا بوجھ برداشت کرسکے؟جس پر حکام نے بتایا کے پرنٹنگ پریس میں سینٹرلائیز پبلیکیشن سسٹم اور مین پاور موجود ہے۔ اجلاس میں خیرپور میں قائم سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کو بھی  40 ملین کے نقصان کا سامنہ ہونے کا انکشاف کیا گیا۔پی اے سی کو بتایا گیا کے 1847ع سے کراچی اور خیرپور میں سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔  پی اے سی نے تمام محکموں کو سرکاری مواد کی چھپائی سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس سے کرانے کا حکم جاری کرنے کے لئے  چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت جاری کردی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں