کراچی پاکستان کی معیشت، تخلیق اور استقامت کی دھڑکن ہے:سید مراد علی شاہ

کراچی پاکستان کی معیشت، تخلیق اور استقامت کی دھڑکن ہے:سید مراد علی شاہ

کراچی:  وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ’دی فیوچر سمٹ” کورس کریکشن ”  ری ڈفائینگ دی ڈائریکشن‘ سے خطاب میں کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت، تخلیق اور استقامت کی دھڑکن ہے،تقریب کا عنوان "کورس کریکشن: نئی سمت کا تعین” وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی عالمی نقشے بدل رہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ سندھ ردِعمل دکھائے گا یا نئی سمت متعین کرے گا؟

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ردِعمل کا دور ختم، اب پیشگی حکمرانی  (anticipatory governance) کا زمانہ ہے۔کورس کریکشن ناکامی نہیں بلکہ جرات، بلوغت اور جوابدہی کی علامت ہے۔سندھ پر بڑھتی شہری آبادی، آمدنی میں فرق اور موسمیاتی چیلنجز کا بوجھ ہے۔سندھ پاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا مرکز ہے، 30 فیصد سے زائد قومی جی ڈی پی میں حصہ ہے۔صرف کراچی ملک کی کل برآمدات کا تقریباً 50 فیصد فراہم کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں 959 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، آئندہ سال 3.45 ٹریلین روپے کا مجوزہ بجٹ ہے، تعلیم کے لیے ریکارڈ 523.7 ارب روپے ہے۔صلاحیت تقدیر نہیں، حکمتِ عملی سے سمت درست کرنا ہوگی۔سندھ کی ترقی چار ستونوں پر مبنی ہے: حکمرانی، ترقی، مواقع اور اشتراک۔حکمرانی کو ڈیٹا پر مبنی، شفاف اور عوامی مرکز بنانا ہوگا۔ای گورننس کے ذریعے بیوروکریسی کم اور خدمات میں آسانی پیدا کر رہے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ترقی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی نہیں بلکہ جامع اور پائیدار ہونا چاہیے،انسانی سرمایہ، پائیدار شہریت اور موسمیاتی مزاحمت ہماری ترجیح ہے،2022 کے سیلاب نے ثابت کیا کہ پائیداری کے بغیر ترقی ایک فریب ہے۔سندھ سبز اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔سندھ کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے نوجوان ہیں، 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔نوجوان صرف روزگار کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار کے خالق ہیں۔پیشہ ورانہ اور ڈیجیٹل تربیت کو فروغ دے رہے ہیں۔سندھ میں ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں کسی نوجوان کو کامیابی کے لیے صوبہ نہ چھوڑنا پڑے۔حکومت، نجی شعبہ، اکیڈمیا اور عوام ، سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔مستقبل شراکت، اعتماد اور مشترکہ جوابدہی سے تشکیل پائے گا۔قیادت کا تقاضا عاجزی، حوصلہ اور ہمدردی ہے۔ل

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اصلاحات کو داد پر ترجیح دینا ہی اصل قیادت ہے،ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے نئی راہیں متعین کرنی ہیں،یہ کانفرنس مکالمہ نہیں، بلکہ وژنری قیادت اور ذمہ دار ترقی کی تحریک بننی چاہیے،کورس کریکشن پیچھے مڑنا نہیں بلکہ بہتر اور باہم آگے بڑھنا ہے،ہم عالمی تبدیلیوں کو روک نہیں سکتے مگر اپنی سمت درست کر سکتے ہیں،آئیے عہد کریں کہ ہم معیشت، حکمرانی اور مستقبل کی نئی سمت متعین کریں گے،مستقبل ان کا ہے جو اسے ازسرِنو متعین کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں