صحافی امتیاز میر کے قتل میں ملوث کالعدم تنظیم کے 4 ملزمان گرفتار

کراچی: صوبائی وزیرداخلہ ضیاء الحسن لنجار نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ایڈیشنل آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے صحافی امتیاز میر کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

صوبائی وزیرداخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے اور انہیں کراچی سے ہی گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان تعلیم یافتہ ہیں اور ان کا تعلق کراچی کے علاقے ناظم آباد سے ہے۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ نجی نیوز چینل سے تعلق رکھنے والے سینئر اینکر امتیاز میر کے مبینہ قاتل پکڑے گئے جن کا تعلق بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم سے ہے جبکہ ملزمان اعلیٰ تعلیمی یافتہ ہیں۔

ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں امتیاز میر پر فائرنگ کرنے والا مرکزی ملزم بھی شامل ہے، جبکہ ملزمان کے قبضے سے حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا۔

وفاقی حساس ادارے اور کراچی پولیس نے مشترکہ کارروائی کر کے چار ملزمان کو گرفتار کیا، جن کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم سے ہے اور یہ بیرون ملک سے ہدایات لیتے تھے۔ملزمان کو ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا جبکہ اجلال نامی ملزم اس سے قبل بھی گرفتار ہوچکا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ کے مطابق گرفتار ملزم بی بی اے پاس اور میٹرک پاس اور بیرون ملک سے ترتیب یافتہ ہیں۔ یہی ملزمان پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہیں، تفتیش کے دوران واقعے اور ملزمان سے برآمد ہونے والے خول میچ کرگئے ہیں۔ملزمان کے مزید ساتھیوں اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

صوبائی وزیرداخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ گزشتہ ماہ امتیاز میر کو کالا بورڈ کے قریب گولیاں ماری گئیں تھیں، وہ ایک ہفتے تک زیر علاج رہنے کے بعد اسپتال میں ہی انتقال کرگئے تھے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں