
خیرپور(رپورٹ: وحید گلال) معروف سماجی رہنما شائستہ کھوسو نے طلبہ نھال مھیسر تشدد کیس اسکول انتظامیا کی ناکامی اور نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا قانون کی رٹ نہ ہونے سے اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔
کلک بریکنگ 24 سے بات کرتے ہوئے شائستہ کھوسو کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز کے بعد اب اس طرح کے واقعات اسکولز تک پہنچ چکے ہیں، کیس ہائیلائٹ ہونے سے کم ہونے کے بچائے بڑتے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں والدین اپنے بچوں کو کیسے پڑھا سکتے ہیں!
طلبہ تشدد واقعے پر افسوس کا اظھار کرتے ہوئے شائستہ کھوسو کا کہنا تھا کہ واقعات ہوتے ہیں مگر بدنامی کے ڈر سے رپورٹ نہیں کیئے جاتے،روک تھام کیلئے قانون تو بنے ہین مگر امپلیمنٹ نہیں ہوتے جس وجہ سے اس طرح کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔
شائستہ کھوسو کا کہنا تھا کہ نجی اداروں میں اسکول انتظامیا اور والدین رابطے میں رہتے ہیں جس سے بچوں پر نظر رہتی ہے مگر سرکار اسکولز میں اس طرح نہیں ہوتا، مزید نقصان سے بچنے کیلئے قانون کو اپنی رٹ قائم کرنہ ہوگی۔
واضح رہے 3 جون کو خیرپور میں اسکول کے اندر دوراں امتحان فرسٹ ایئر کی طلبہ نھال مھیسر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر سندھ کی معروف سماجی رہنما شائستہ کھوسو نے اپنا موقف دیا مگر ڈی ای او اور پرنسپال اپنا موقف دینا مناسب نہیں سمجھا۔
