محکمہ آبپاشی سندھ نے 40ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود آر بی او ڈی ٹو منصوبہ مکمل نہ ہونے کا نے اعتراف کرلیا

محکمہ آبپاشی سندھ نے 40ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود آر بی او ڈی ٹو منصوبہ مکمل نہ ہونے کا نے اعتراف کرلیا

کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں 273 کلو میٹر طویل آر بی او ڈی ٹو کے 61.985 ارب روپے کے منصوبے کے لئے 2001ع سے 2017ع تک وفاق سے جاری کئے گئے 44 ارب روہے میں سے 40 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود آر بی او ڈی ٹو کا منصوبہ تاحال مکمل نہ ہونے کا محکمہ آبپاشی سندھ نے اعتراف کرلیا۔

واپڈا حکام نے آر بی او ڈی ٹو منصوبے سے واپڈا کا تعلق نہ ہونے اور منصوبے پر محکمہ آبپاشی سندھ کو فنڈنگ وفاقی وزارت واٹر ریسورس سے براہ راست ہونے کی دعوی کرکے اپنی جان چھڑالی۔جبکے محکمہ آبپاشی نے آر بی او ڈی ٹو منصوبے کے لئے تاحال 3.5 ارب روپے فنڈنگ موجود ہونے کے باوجود منصوبے پر کام بند پڑے ہونے کی وجہ 2022ع میں ورک آرڈر کینسل ہونے اور کنسلٹنٹ کو ھٹانے سمیت نیب اور اینٹی کرپشن کی انکوائریز قرار دے دیا۔

پی اے سی نے ار بی او ڈی ٹو منصوبے پر 2015ع سے کام بند پڑے ہونے پر برھمی کا اظھار کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دے دیتے ہوئے آر بی او ڈی ٹو منصوبہ سندھ کے لئے اھم قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو منصوبے کے لئے اسٹیئرنگ کمیٹی سے کنسلٹنٹ کی تقرری کی منظوری  دینے کی ھدایت کردی۔پی اے سی کی منچھر جھیل کو آر بی او ڈی کے زھریلے پانی سے بچانے کے لئے زیرو پوائنٹ سے پہلے ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کرانے کے لئے محکمہ آبپاشی کو اقدامات لینے کی بھی ہدایت کردی۔

پیر کے روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی رکن قاسم سراج سومرو، محکمہ آبپاشی کے اسپیشل سیکریٹری ساجد بھٹو، واپڈا کے جنرل مینیجر سائوتھ نعیم قادر منگی، ایس ای آر بی او ڈی عبدالوحید نظامانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں واپڈا حکام اور محکمہ آبپاشی افسران نے آر بی او ڈی ٹو منصوبے کے متعلق پی اے سی کو بریفنگ دی۔محکمہ آبپاشی نے بریفنگ دیتے ہوئے پی اے سی کو بتایا کے وفاق کی فنڈنگ سے آر بی او ڈی ٹو کی وفاقی پی ایس ڈی پی اسکیم کی 2001ع میں 14 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی جس پر کام جولائی 2005ع میں مکمل ہونا تھا جبکے 2005ع میں منصوبے کو 29.217 ارب تک روائیز کیا گیا جس پر کام 2010ع میں مکمل ہونا تھا۔ 2016ع میں تیسری مرتبہ منصوبے کو 61.985 تک  روائیز کیا گیا جس پر کام 2019ع میں مکمل ہونا تھا۔

محکمہ آبپاشی سندھ آر بی او ڈی کے ایس ای عبدالوحید نظامانی نے کہا کے2001ع سے 2017ع تک وفاق سے  آر بی او ڈی تو منصوبے کے لئے 61.985 ارب میں سے 44 ارب روپے جاری کئے گئے جس رقم میں سے 40 ارب روپے آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر خرچ ہوچکے ہیں تاہم محکمہ آبپاشی کے پاس آر بی او ڈی منصوبے کے لئے ابھی 3.5 ارب روپے سے زائد کی فنڈنگ موجود ہے اور منصوبے پر 70 فیصد کام ہوچکا ہے تاہم منصوبے پر مکمل کام نہیں ہوا ہے۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کے آر بی او ڈی سندھ کا اھم منصوبہ ہے اور 40 ارب روپے خرچ ہونے اور 3.5 ارب سے زائد کے فنڈز موجود ہونے کے باوجود آر بی او ڈی ٹو پر کام کیوں بند ہے جبکے نیب سے بھی ریکارڈ آپ کو مل چکا ہے۔

ایس ای آر بی او ڈی نے کہا کے 2022ع میں آر بی او ڈی ٹو منصوبے کے لئے این ڈی سی، نیسپاک اور این ایم پی فرمز کو ورک آرڈر کے لئے موزوں قرار دے کر این ڈی سی کو ورک آرڈر دیا گیا تھا تاہم 2022ع میں ہی اس وقت سے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری نے ورک آرڈر کو کینسل کرکے منصوبے کے لئے ہایر کئے گئے کنسلٹنٹ کو بھی فارغ کردیا تھا اور نیب سمیت اینٹی کرپشن کی تحقیقات کی وجہ سے بھی منصوبے پر کام بند پڑا ہوا ہے۔

واپڈا کے جی ایم سائوتھ نعیم قادر منگی نے پی اے سی کو بتایا کے واپڈا کی ذمیداری آر بی او ڈی ون اور آر بی او ڈی تھری کی تھی جس کو واپڈا نے مکمل کردیا ہے جبکے ار بی او ڈی ٹو منصوبے سے واپڈا کا کوئی تعلق نہیں ہے اور آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر فنڈنگ محکمہ آبپاشی کو براہ راست وفاقی وزارت واٹر ریسورس سے ہوتی ہے۔

واپڈا جی ایم سائوتھ نعیم قادر منگی نے یہ بیان دے کر واپڈا کی اس منصوبے کے متعلق جان چھڑادی۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے 2022ع میں آر بی او ڈی ٹو منصوبے کے لئے ورک آرڈر کیوں کینسل کیا گیا وجہ کیا تھی۔جس پر ایس ای آر بی او ڈی نے کہا کے 2022ع میں اس وقت کے سیکریٹری نے منصوبے کا ورک آرڈر کینسل کیا جس وجہ ہمیں بھی نہیں معلوم ہے۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے آربی او ڈی ٹو منصوبہ سندھ کے فائدے میں ہے اس لئے اس منصوبے پر کام چاہئے اور منصوبے میں جتنے تاخیر ہوگی اتنی کاسٹ بڑھے گی اس لئے یہ محکمہ آبپاشی کت افسران کی نااھلی اور غفلت ہے۔ایس ای آر بی او ڈی نے کہا کے  آربی او ڈی ٹو منصوبے کے لئے کنسلٹنٹ ہایر کرنے کی منظوری اسٹیئرنگ کمیٹی دے گی اور کنسلٹنٹ مقرر ہوگا تو منصوبے پر کام شروع ہوسکے گا۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے آربی او ڈی ٹو منصوبے کے لئے محکمے کے پاس ابھی 3.5 ارب روپے کی فنڈنگ موجود ہے اس فنڈنگ سے کما شروع کریں تو بقیہ فنڈنگ کا معاملہ وفاقی وزارت واٹر ریسورس سے ٹیک اپ کیا جائے گا۔پی اے سی نے ار بی او ڈی ٹو منصوبے پر 2015ع سے کام بند پڑے ہونے پر برھمی کا اظھار کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو منصوبے کے لئے اسٹیئرنگ کمیٹی سے کنسلٹنٹ کی تقرری کی منظوری  دینے کی ھدایت کردی۔

پی اے سی کی منچھر جھیل کو آر بی او ڈی کت زھریلے پانی سے بچانے کے لئے زیرو پوائنٹ سے پہلے ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کرانے کے لئے محکمہ آبپاشی کو اقدامات لینے کی بھی ہدایت۔واضع رہے کے گذشتہ اجلاس میں نیب نے آربی او ٹو کے لئے زمین کی خریداری کے متعلق ریکارڈ 2 جنوری کو ٹھٹھہ اور جامشورو کے ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کرنے اور آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر کسی کو کام کرنے سے نہ روکے جانے کی وضاحت کردی تھی۔

گزشتہ اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری ظریف کھیڑو نے آر بی او ڈی ٹو منصوبے کی ڈزائیننگ پر اعتراض اتھا کر منصوبے کو نان فزیبل قرار دیا تھا اور واپڈا سے منصوبے پر فنڈنگ کا اجراء نہ ہونے کی شکایت کی تھی۔

آج کے پی اے سی اجلاس میں ایس ای آر بی او ڈی عبدالوحید نظامانی نے سیکریٹری آبپاشی کے بیان کو رد کرتے ہوئے اعتراف کیا کے آر بی او ڈی ٹو دریائے سندھ کے بیڈ سے نہیں گذر رہا نہ ہی اس منصوبے کے لئے سندھو دریاء کا پیٹ استعمال ہوگا کیونکے آر بی او ڈی ٹو کا منصوبہ دریائے سندھ کے پیٹ سے نہیں دریائے سندھ کے نزدیک گذارنے کا منظور شدہ منصوبہ ہے۔ پی اے سی نے آر بی او ڈی ٹو منصوبے کو سندھ کا اھم منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس منصوبے پر ہر صورت کام شروع کرانے کی ہدایت کردی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں