جنگ کے دوران اسرائیل نے 150 تربیت یافتہ لوگ بھارت پہنچے: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی خوب مدد کی اور جنگ سے قبل اسرائیل کے 150 تربیت یافتہ لوگ بھارت پہنچے۔

سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ میرا تھا اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے میں نوازشریف سے بھی مشاورت کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنگ میں کسی کی جیت ہوتی ہے تو ایک کی ہار ہوتی ہے، جنگ مستقل حل نہیں دیرپا امن ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی دہشت گردی سے متعلق مذاکرات ہوئے دونوں قومی سلامتی کے مشیر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی خوب مدد کی، جنگ سے قبل اسرائیل کے 150 سو تربیت یافتہ لوگ بھارت پہنچے اور سری نگر سمیت دیگر مقامات پر بھارت نے اسرائیلی ہتھیار استعمال کیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بات چیت کے دوران پاکستان کی جانب سے چار اہم نکات شامل ہوں گے اور بھارت سے کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی کے حوالے سے بات ہوگی لیکن بھارت کسی بھی تیسرے ملک کی مذاکرات میں شرکت پر آمادہ نہیں، تیسرے ملک میں بات چیت کرنے کا فیصلہ اچھا ہوسکتا ہے۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لئے قطعاً کوئی درخواست نہیں کی تھی، اگر ہم نے جنگ بندی کی درخواست کی ہوتی تو عالمی برداری بتا دیتی۔ڈی جی ملٹری آپریشنز کی گفتگو میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک کی افواج جنگ سے پہلی پوزیشن پر جائیں گی، دونوں ممالک کی افواج پہلے والی پوزیشن پر کب جائیں گی اس کاٹائم فریم بھی نہیں بتا سکتے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں