چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت امن امان سے متعلق اجلاس
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر زراعت محمد بخش مہر، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف،سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی پولیس غلام نبی میمن اور رکن اسمبلی جمیل سومرو اجلاس میں شریک تھے۔
چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ امن امان کی صورتحال کو سندھ حکومت کس طرح سنبھال رہی ہے وہ مجھے بتائیں۔صوبے میں امن امان برقرار رکھنا اور عوام کی جان و مال کی حفاظت سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چیئرمین بلاول بھٹو کو امن امان کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا کہ نادرن سندھ کے کافی اضلاع سے اغوا برائے تاوان کے مسائل پر کنٹرول کیا ہے،ان اضلاع میں سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور شامل ہیں،
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پولیس کو ڈاکؤں کے خلاف آپریشن کو مزید تیز کرنا ہوگا، جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر، شکارپور، گھوٹکی، کشمور میں کافی بہتری کی ہے۔
بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایت کی کہ آئی جی پولیس کے ذریعے نادرن اضلاع کے پولیسنگ کو بڑھائیں،اغوا برائے تاوان اور دیگر گھناؤنے جرائم پر زیرو ٹالرنس ہے،کچے کی سرکاری اراضی وہاں کی خواتین میں تقسیم کرنے کی سندھ حکومت پالیسی بنائے۔کچےمیں وہاں کے امن پسندلوگوں کو سندھ حکومت اونرشپ دے، پیپلز پارٹی کی پالیسی ہے کہ اقلیتوں، خواتین اور بچوں کی خلاف کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔کراچی میں روڈ حادثات کو ہر صورت کنٹرول کیا جائے،سندھ حکومت کے منشیات کے خلاف جاری آپرشن کو مزید بہتر بنایا جائے۔
آئی جی سندھ بریفنگ
آئی جی پولیس نے چکے کی صورتحال پر اجلاس میں بریفنگ میں بتایا کہ مارچ 2024 سے مارچ 2025 تک کچے کے چار اضلاع سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور سے 87 ڈاکو مارے گئے اور 298 زخمی ہوئے۔پانچ اشتہاری ڈاکوؤں کو آپریشن میں مارا گیا اور 12 اشتہاری ڈاکو گرفتار کئے گئے،پولیس نے 534 افراد کو اغوا ہونے سے بچایا۔
چیئرمین بلاول بھٹو نے پولیس کی کاؤنٹر ٹیئرازم ڈپارٹمینٹ کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایت دیدی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس کو اسلحہ، آلات اور تربیت کے لحاظ سے مستحکم کیا ہے، سی ٹی ڈی نے 2225 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیئے،ٓپریشن میں 208 دہشت گرد گرفتار اور چار مارے گئے۔ہم نے پولیس اسٹیشنز کو براہ راست بجٹ دیا ہے،اس سال پولیس تھانوں کو 6 بلین روپے دیئے ہیں تاکہ پولیس اسٹیشن کی سطح بہتر ہو۔
ایس فور پروجیکٹ سے شہر کے تمام آمد رفت کے راستوں کی نگرانی ہوتی ہے، اجلاس میں آگاہی
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہائی ویز کو محفوظ کرنا بہت ضروری ہے،
وزیر داخلہ ضیا لنجارنے کہا کہ سندھ پولیس نے ہائی ویز کی پیٹرولکا کام بھی شروع کر دی ہے ، پولیس کے 200 اہلکار 100 وہیکلز پر ہائی ویز پیٹرولنگ کرتے ہیں۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے،
وزیراعلی ٰسندھ اجلاس کہا کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ پر کام کو تیز کیا گیا ہے، 6.62 بلین روپے کی لاگت سے 1300 سی سی ٹی وی کیمرہ لگا رہے ہیں،پہلے مرحلے میں ریڈ زون اور ایئر پورٹ کوریڈور پر سی سی ٹی وی کیمرہ لگا رہے ہیں۔سی سی ٹی وی کیمرہ میں چہرے کی شناخت اور نمبر پلیٹس کی شناخت کی سہولت ہے
