بانی چیئرمین پی ٹی آئی اپنی کرپشن کا جواب دیں:عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطائاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 190 ملین پاﺅنڈ میگا کرپشن کیس میں ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، این سی اے نے یہ رقم ضبط کر کے حکومت پاکستان کے حوالے کی، بند لفافہ کابینہ میں لایا گیا، شہزاد اکبر نے پیسہ آفیشل دستاویزات میں شو کروایا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی اپنی کرپشن کا جواب دیں۔

190ملین پاﺅنڈ میگا کرپشن کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 190 ملین پاﺅنڈ کے فیصلے کو عالمی میڈیا نے کرپشنز کی ہیڈ لائنز دیں، اس کیس کے ٹھوس شواہد موجود تھے، نیشنل کرائم ایجنسی سے کرائم پروسیڈ کے ذریعے پیسہ حکومت پاکستان کو آیا، شہزاد اکبر نے ایسٹ ریکوری یونٹ میں 190 ملین پاﺅند کو سرکاری دستاویز کے اندر ظاہر کروایا اور کابینہ کو بھی یہی بتایا کہ یہ پیسہ ملک ریاض اور ان کی فیملی سے ضبط کر کے حکومت پاکستان کو دیا گیا ہے، جب یہ رقم حکومت پاکستان کو دی گئی اور شہزاد اکبر نے بھی تسلیم کرلیا تو اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا۔

انہوں نے بند لفافہ کابینہ میں لایا اور اس پیسے کو سپریم کورٹ کے اکاﺅنٹ میں کسی دوسرے جرمانے کی مد میں ادا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میاں بیوی نے ٹرسٹ بنایا، رشوت میں دو سوکنال زمین لی، انگوٹھیاں مانگیں، اس سے بڑی کرپشن کی مثال نہیں ملتی۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ 190 ملین پاﺅنڈ میگا کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت موجود تھے، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن اور رشوت کا کیس ہے، یہ تمام چیزیں دستاویزات کے ساتھ ثابت ہو چکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی اپنے آرڈر میں کہا کہ ایک ہاتھ سے پیسہ لے کے دوسرے ہاتھ دے دیا گیا، یہ پیسہ حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کا تھا جس کا غلط استعمال کیا گیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے خلاف بدعنوانی اور زمینوں پر قبضے کے بہت سے کیسز چل رہے ہیں جس میں راولپنڈی کے علاقے تخت پڑی میں ناجائز قبضے اور غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹی اور عوام سے اربوں روپے بٹورنے کے کیسز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی طرف سے پریس ریلیز جاری ہونے کے باوجود دبئی میں پراجیکٹ لانچ کئے جا رہے ہیں، نیب نے واضح کیا ہے کہ دبئی کے پراجیکٹ میں جو بھی پیسہ لگے گا وہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت سے بھی یہ معاملہ اٹھایا جائے گا کہ حکومت اس پر ایکشن لے، نیب نے انہیں مفرور ڈیکلیئر کیا ہے، اگر یہ اپنے آپ کا دفاع کر سکتے تو 190 ملین پاﺅنڈ کرپشن کیس میں بھی عدالت کے سامنے کھڑے ہوتے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی عدالتوں سے راہ فرار اختیار کی، عدالتوں کے سامنے پیش نہیں ہوئے، ان کی جائیدادیں پہلے بھی ضبط ہوئی ہیں، نیب باقی کیسز کے اندر بھی جائیداد ضبط کرنے کے حوالے سے کارروائی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ دبئی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئے گی لہذا اس میں سرمایہ کاری نہ کی جائے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں