اب دہشتگردوں سے مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں،بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ہم بھارت میں اپنا مقدمہ لڑ رہے تھے ایک واحد جماعت تھی جس نے ہماری مخالفت کی، ان کا اور بی جے پی کا بیانیہ ایک تھا۔ میں وزیر خارجہ بن کر بھارت گیا تو تمام پاکستانیں کا نمائندہ بن کر گیا تھا۔
کراچی میں منعقدہ پیپلزپارٹی کے یوم تشکر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے امریکا میں کھڑے ہو کر عمران کے روس دورے کا دفاع کیا مگر جواب میں پی ٹی آئی نے ہم پر الزامات کی بوچھاڑ کی۔

انہون نے کہا کہ ایک طالبان نے حساس تنصیبات پر حملہ کیا تھا اور دوسرا سیاسی دہشتگرد نے حملہ کیا
بلاول بھٹو کا کہنا تہا کہ اگر اس ملک میں سیاست کرنی ہے تو پی ٹی آئی کے سیاسی لوگوں کو علیحدہ ہونا پڑے گا۔ہم نے اتحادیوں کو عمران خان اور پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ کیا، لیکن اب دہشتگردوں سے مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں