گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکا نے پابندیاں لگائی ہیں، ان کی خواہش ہے کہ کسی مسلمان ملک کے پاس ایٹمی طاقت نہ ہو
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ، پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان بہانا ہے ان کا نشانہ پاکستان کا ایٹمی اورمیزائل پروگرام ہے۔ جب تک پیپلزپارٹی موجود ہے ہم ایٹمی پروگرام اورمیزائل ٹیکنالوجی پرسودا کرنےنہیں دیں گے، ہماری اندرونی سیاست پرامریکا سے بیانات آرہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر کو شہید کرنے والوں کو غلط فہمی تھی کہ عوام کی آواز ہمیشہ کیلئے دب جائے گی، بینظیر کو شہید کرنے کے بعد سیاسی کٹھ پتلیوں کو مسلط کیا گیا، سیاسی کٹھ پتلیاں ایٹمی اثاثوں پر سودے بازی کیلئے بھی تیار رہتی ہیں۔ہم نہ سلیکٹڈ ہیں اور نہ ہی فارم 47 والے ہیں، حکومت سازی کے وقت ہمیں کسی کرسی یا وزارت کا شوق نہیں تھا، ہم ن لیگ سے کہا کہ حکومت بنائیں اور فیصلے کریں اور ن لیگ سے طے ہوا تھا کہ پی ایس ڈی پی مل کر بنائیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم اب تک حکومت سے طے پانے والے سمجھوتے پر عمل کرانے میں ناکام رہے ہیں، حکومت کے پاس یکطرفہ فیصلے کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے، حکومت کے پاس صرف اجتماعی فیصلے کرنے کا مینڈیٹ ہے، اتفاق رائے سے کیے جانے والے فیصلے ہی مضبوط فیصلے ہوتے ہیں۔2008 میں پنجاب میں حکومت سازی کی طاقت ہونے کے باوجود سیاسی مصالحت کی، بین الاقوامی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اتفاق رائے سے فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں حکومت کی نہروں کی پالیسی پر سخت اعتراض ہے، یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
