دریائے سندھ سے کوئی خطرہ نہیں، باقی ایم این وی ڈرین کی صورتحال پر تشویش ہے، اگربارشیں زیادہ ہوئی توایم این وی ڈرین ہوسکتا ہے نقصان دے:وزیراعلیٰ سندھ
لاڑکانہ: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارشوں کی صورتحال کے دوراں سندھو دریا کے پشتوں اور ایم این وی ڈرین کا معائنہ کیا
وزیراعلیٰ سندھ کو مین نارا ویلی (ایم این وی) ڈرین سے متعلق وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بریفنگ دی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مین نارا ویلی (ایم این وی) ڈرین کی تعمیر کا بنیادی مقصد آر ڈی زیرو منچھر جھیل سے ایف پی بند کے آر ڈی 346 تک پانی کا اخراج کرنا ہے،ایف پی بند سے منچھر جھیل تک پانی نکالنے کیلئے پانچ دروازے نصب ہیں۔ہر ایک گیٹ دس فٹ چوڑا ہے تاکہ سیلاب کے دوران ایف پی بند سے پانی روانی سے چھوڑا جاسکے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ایم این وی ڈرین کا ڈیزائن ڈسچارج 1500 کیوسک ہے جبکہ محکمہ آبپاشی کے انتظامی کنٹرول میں ہے،سنہ 1994 میں ایم این وی ڈرین کو انتظامی طور پر واپڈا کے حوالے کر دیا گیا،اسکے بعد ضلع لاڑکانو، قمبر-شہداد کوٹ اور دادو کے سسٹم میں دوبارہ ڈیزائن کیا گیا،۔ایم این وی ڈرین سرکاری طور پر آر پی او ڈی ون کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایم این وی ڈرین پر کاری موری کی نئی تعمیر کی جانے والی پل کا معائنہ کیا
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی کہ پرانی موری سیلاب میں ٹوٹ گئی تھی اب نئی تعمیر کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے پل کی تعمیر کا کام عوام کی سہولت کے لیئے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی ہدایت پر سندھو دریا کے پشتوں اور ایم این وی ڈرین کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ سے کوئی خطرہ نہیں، باقی ایم این وی ڈرین کی صورتحال پر تشویش ہے، اگربارشیں زیادہ ہوئی توایم این وی ڈرین ہوسکتا ہے کہ نقصان دے،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی سے زیادہ بارشیں پڑچکی ہیں،افسوس کی بات ہے کہ وفاق کے پاس مشینری پہنچانے کا طریقہ ہی نہیں، صوبائی وزیرآبپاشی اور چیف انجنیئر سے کہا ہے کہ جلد از جلد لیکیج کی جگہ پر مشینری پہنچائیں تاکہ پشتوں کو مضبوط کریں اور لوگوں کے فصل بچائیں۔
