اسلام آباد:سپریم کورٹ کے پی ٹیآئی کو مخصوس نشستیں ملنے کے فیصلے پر جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی موجودہ کیس میں فریق نہیں تھی۔
جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ ایسا فیصلہ جو آئین کے مطابق نہ ہو کوئی بھی آئینی ادارہ عملدارآمد کا پابند نہیں،50 اراکین اسمبلی اکثریتی فیصلے کی وجہ سے اپنا موقف تبدیل کرتے ہیں تو وہ نااہل بھی ہوسکتے ہیں۔
جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں پر 29 صفحات پر مشتمل اختلافی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کا کہ مختصر فیصلہ سنانے کے بعد 15 دنوں کا دورانیہ ختم ہونے کے باوجود اکثریتی فیصلہ جار نے ہوسکا اور تفصیلی فیصلے میں تاخیر کے باعث ہم مختصر حکمنامے پر ہی اپنے فائیڈنگ دے رہے ہیں۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے بطور سیاسی جماعت عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بھی آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی موجودہ کیس میں فریق نہیں تھی اسے ریلیف دینے کیلئے آرٹیکل 175 اور 185 میں فویض دائرہ اختیار سے باہر جانا ہوگا۔

