کراچی: سکھر کے علاقے سنگرار سے اغوا معصوم بچی پریا کماری کی بازیابی کیلئے کراچی میں تین تلوار پر احتجاج کیا گیا کیا۔
چار گھنٹے گزرنے کے بعد مظاہرین نے احتجاج کو دھرنے میں بدل دیا جہاں شرکاء اور پولیس میں جھڑپیں ہوتی رہیں، پولیس تشدد میں نجی ٹی وی کے کئمران زخمی ہوگئے، رپورٹر بشیر میرجت سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا
منارٹی ونگ کے جونیئر ذوالفقار، نیپال چھابریا، جماعت اسلامی کے محمد حسین محنتی، ایس یو پی کے جگجیت آھوجا، ڈاکٹر نیاز کالانی، پنھل ساریو، منارٹی ونگ کی نومی بشیر، بندیا رانا گرو، عورت مارچ رہنما شیما کرمانی،بیریسٹر اختر جبار، خالق جونیجو،کیئلداس کوھستانی، کلپنا دیوی، اقلیتی رہنما نجمہ مھیشوری، سہنی پارس، مشتاق سرکی سمیت ھندو برادری، سول سوسائٹی، قومپرست رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
دھرنے سے خطاب میں شرکا کا کہنا تھا کہ تین سال گزر گئے تاہم پریا کماری کا کوئی پتا نہیں چل سکا، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کو کوئی پتا نہیں، ان سے پوچھ کر وقت ضایع نہیں کرینگے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ حق اور باطل کی جنگ ہے، حسینیت اور یزیدیت کی جنگ ہے فتح ہماری ہوگی، پولیس ہر مرتبہ آسرے دیے مگر بچی کو بازیاب نہیں کریا جاسکا، پریا کماری کی بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا۔
