کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر و صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر سال 5 جولائی کو ملک بھر میں قومی سطح پر یوم سیاہ منایا جائے۔ اس ملک کی تاریخ میں اگر 5 جولائی نہ آتا تو آج یہاں پارلیمنٹ مضبوط، مذہبی انتہا پسندی نہ ہوتی، کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر نہ آتا اور نہ ہی مذہب و مسلک کی تقسیم ہوتی۔
بدھ کے روز 5 جولائی 1977 یوم سیاہ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت پیپلز سیکرٹریٹ میں منعقدہ احتجاجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ پانچ جولائی کاخمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1977میں ذوالفقار علی بھٹونے قوم میں جینے کی امنگ پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ 1971 میں جب پاکستان دو لخت ہوا اس وقت ملک کی جو صورتحال تھی، اس کو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ٹھیک کرنے کی کوشش کی اور صرف 6 سال کے قلیل عرصہ میں انہوں نے اس قوم میں نیا جوش و ولولہ پیدا کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ 5 جولائی 1977 کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں ظلم و ستم ڈھائے گئے، انہیں پھانسیوں پر لٹکایا گیا، کوڑے مارے گئے اور جیلوں میں پابند سلاسل کیا گیا اور اس ظلم و جبر کا پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مقابلہ کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ 5 جولائی اس ملک میں کسی بھیانک نقصان سے کم نہیں ہے اور اگر 5 جولائی کا واقعہ اس ملک کی تاریخ میں نہ آتا تو آج یہاں پارلیمنٹ مضبوط، مذہبی انتہا پسندی نہ ہوتی، کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر نہ آتا اور نہ ہی مذہب و مسلک کی تقسیم ہوتی۔
سعید غنی نے کہا کہ اس ملک میں جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں وہ 5 جولائی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں، جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں تمام بربادی کا ذمہ دار ڈکٹیٹر ضیا تھا، جو اس ملک نہیں بلکہ دنیا کا سب سے بڑا ڈکٹیٹر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی جمہوریت، ہماری پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا تمام تر قربانیوں اور شہادتوں کے بعد بھی ہم اس ملک کو 5 جولائی 1977 سے پہلے جیسی حالت پر نہیں لے جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 5 جولائی کے وحشت ناک سائے کو ابھی تک نہیں نکال سکیں ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ 5 جولائی پیپلز پارٹی پر نہیں بلکہ اس ملک اور نسلوں پر ظلم تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں آج مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں چاہے کوئی بھی حکومت ہو 5 جولائی کو ہر سال ملک بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے اور اس دن سیمینار اور کانفرنسوں کے انعقاد میں اس دن کے ظلم و جبر پر لعنت ملامت ہونی چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہ 5 جولائی کے بعد آمر اور ڈکٹیٹر نے بونے اور دو نمبر جعلی سیاستدانوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا اور ملک کے ایوانوں اور جمہوریت کو تباہ و برباد کروایا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست اور سیاستدانوں اور 5 جولائی 1977 سے پہلے کی سیاست اور سیاستدانوں کا موازنہ کیا جائے تو فرق صاف نظر آئے گا، کیونکہ ہر آمرانہ دور میں اس ملک میں جھوٹے اور جعلی سیاستدانوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔
بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ 5 جولائی ایک عذاب، بدنصیبی اور لعنت ہے، جس کو ہم آج تک نہیں بھولیں ہیں۔ ایک۔سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں نے 5 جولائی کو تعطیل نہیں بلکہ ملک گیر یوم سیاہ منایا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کسی قرارداد کی ضرورت نہیں ہے ان کو جب انصاف نہیں ملا تھا تب بھی وہ شہید تھے اور عدالتی فیصلے کے بعد بھی وہ شہید ہی ہیں اور آج بھی عوام میں مقبول ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ عوامی طاقت پر یقین رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو اب کوئی فیصلہ کرنا ہوگا کہ جس سے اس ملک میں حقیقی اور مضبوط جمہوریت کا استحکام ہو۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و معاون خصوصی وزیر اعلٰی سندھ سید وقار مہدی نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہر سال 5 جولائی کویوم سیاہ کے طور پرمناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہید ذوالفقارعلی بھٹو سے آمریکہ خوفزدہ تھا، کیو…
تقریب سے وقار مہدی، عاجز دھامرا، جاوید ناگوری، آصف خان، عدیل شیخ، جانی میمن و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
پیپلز پارٹی کے تمام ڈسٹرکٹ کے صدور، جنرل سیکرٹریز، ذیلی تنظیموں کے عہدیداران، خواتین ونگ، لیبر ونگ، وکلا ونگ سمیت تمام کے علاوہ تمام ٹائونز کے چیئرمینز، وائس چیئرمینز، سمیت تمام عہدیداروں، یوسیز کے چیئرمین وائس چیئرمینز و کونسلرز نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔

