کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے تھر کول پاور پروجیکٹ کام شروع کیا،سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی بلاک ٹو کے مائننگ پروجیکٹ کا کام کر رہی ہے،بلاک ٹو کے فیز ون میں 10 جولائی 2019 کو سی او ڈی حاصل ہوا۔اس کی لاگت 627 ملین ڈالرز ہے،یہاں سے سالانہ 3.8 ایم ٹی پی اے کوئلہ نکالے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سندھ ویژن پر بریفنگ میں کہا کہ اب تک 2 ملین ٹن سے زیادہ کوئلہ نکالا گیا ہے،فیز ٹو میں 31 دسمبر 2019 کو ایف سی حاصل کیا۔اس کی ابتدائی لاگت 235 ملین ڈالرز ہے جبکہ کل لاگت 862 ملین ڈالرز ہے،یہاں سے مزید سالانہ 3.8 ایم ٹی پی اے کوئلہ نکالنے گا یعنی کل 7.6 ایم ٹی پی اے کائلہ نکالا جائے گا۔18 ایگزیکیوٹرز اور 130 ڈمپ ٹرک کے ذریعے کائلہ نکالا جا رہا ہے
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سائنو سندھ سیسورسز بلاک ون مائننگ پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے،یہ سی پیک پروجیکٹ ہے جس کا ایف سی 31 دسمبر 2019 کو حاصل ہوا،تھر کول بلاک ون مائننگ پروجیکٹ کی لاگت 1.17 بلین ڈالرز ہے،سالانہ 7.8 ایم ٹی پی اے کوئلہ حاصل کیا جائے گا، 10 ملین بی سی ایم سے زیادہ بوجھ ہٹایا گیا۔بلاک ون میں 34 ایگزیکیوٹرز، 120 ڈمپ ٹرک اور 220 ٹرانزٹ کے ذریعے کائلہ نکالا جا رہا ہے
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تھر میں اینگرو پاورجین تھر پرائیوٹ لمیٹڈ نے کوئلے سے بجلی پیدا کر رہا ہے،پاور پروجیکٹ شیڈول سے 3 ماہ پہلے مکمل ہوا،10 جولائی 2019 سے 660 میگاواٹ یونٹس نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ابتک 3.5 3.5 گیگا واٹ پر آور سے زیادہ بجلی پیدا کی گئی ہے۔سو فیصد آئی ایف سی اور ڈبلیو بی کے ماحولیاتی رہنما خطوط کے مطابق ہے۔سندھ حکومت نے اسلام کوٹ میں مائی بختاور ایئرپورٹ قائم کیا
سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ تھر میں بہترین اور اعلیٰ معیار کی سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے۔تھر کے لوگوں کیلئے تھر فائونڈیشن قائم کی گئی ہے۔سندھ حکومت اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔تھر فاؤنڈیشن کا مقصد کول پروجیکٹس سے متاثرین فائدہ پہچانا، مقامی افراد کیلئے روزگار اور تعلیم کے مواقع پیدا کرنا۔سندھ حکومت کی جانب سے دوبارہ آبادکاری کرنا، ماحول کا تحفظ کرنا۔تھر فاؤنڈیشن نے اسلام کوٹ میں بہترین اسپتال بھی قائم کی ہے
بریفنگ دیتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تھر میں مائننگ پروجیکٹس میں 71 فیصد تھری مقامی افراد کام کر رہے ہی،تھر مائننگ پروجیکٹس میں 3303 مقامی لوگوں کو افرادی وقوت شامل ہے۔تھر کی بااختیار 52 خواتین ڈمپ ٹرکس ڈرائیو کر رہی ہیں۔9 تھری خواتین کو تربیت دی کر آر او پلانٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔سندھ حکومت نے مقامی افراد کی دوبارہ آبادکاری کی ہے۔ری سیٹلمنٹ ولیج 100 فیصد مکمل ہے جہاں 172 خاندانوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ری سیٹلمنٹ ولیج میں تمام بنیادی سہولیات پینے کا صاف پانی، صحت کی خدمات، تعلیم، پارک، مسجد، مندر، سولر سسٹم کے ساتھ 100 یونٹ فری بجلی میسر کی گئی ہے۔

