کراچی(رپورٹ:نبی بخش خاصخیلی) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں آج سے کچھ ماہ قبل شہید ہونے والے صحافی نصراللہ گڈانی کے اصل قاتلوں کی گرفتاری کیلئے مختلف صحافی تنظیموں کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کے بعد سی ایم ہاؤس جانے کی کوشش کی گئی جہاں پولیس نے رکاوٹیں ڈال دیں
صحافیوں نے پی آئی ڈی سی چوک پر دھرنا دے دیا جو تین سے چار گھنٹے جاری رہا، ایس ایس پی ساؤتھ مظاہرین سے مذاکرات کے لے پہنچے تاہم مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے صحافی نعمت اللہ کہڑو کا کہنا تھا کہ شہید نصراللہ گڈانے کے قاتلوں کو پولیس گرفتار نہیں کررہی، بیگناہ ایک صحافی کو شہید کیا گیا تاہم قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حق اور سچ کی راہ پر چلنے کے الزام میں شہید نصراللہ گڈانی کو قتل کیا گیا کیوں کہ وہ سردارنہ اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف تھے
صحافی نعمت اللہ کہڑو کا کہنا تھا کہ جب تک ہمیں شہید نصر اللہ گڈانی کے اصل قاتل گرفتار کرانے کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی دھرنا جاری رہے گا۔
شہید نصراللہ گڈانی کی والدہ مسمات پٹھانی کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے مگر قاتلوں کو معاف نہیں کرونگی، انہوں نے مظاہرین سے ساتھ دینے کا وچن بھی لیا ور انہیں دعا بھی کی۔
شہید نصراللہ گڈانی کے بھائی محمد یعوب کا کہنا تھا کہ ہم ایک سادہ سیدھا بندہ ہوں مگر سرداروں کو معاف نہیں کروںگا،میں انصاف کے حصول کی خاطر اعلیٰ عدالت تک جاؤنگا، وہ دن دور نہیں جب لونڈ سردار پھاسی کے پھندے پر ہونگے
دھرنے سے ایڈووکیٹ ماجد گبول و دیگر نے بھی خطاب کیا
صوبائی وزیر سعید غنی نے پہنچ کے شہید نصراللہ گڈانی کی والد سے مذاکرات کرتے ہوئے اصل قاتلوں کی گرفتاری کیلئے 24 گھنٹوں کی مہلت مانگی اور قاتل گرفتار کرنے کی یقین دھانی بھی کروائی۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ قاتلوں کا تعلق بھلے پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی کیوں نہ ہو انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں ملے گی.
صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات وزیر داخلہ نے حل کرنے ہیں، وزیر داخلہ آج یہاں موجود نہیں تھے،کچھ مطالبات وزیر اعلیٰ اور کچھ مطالبات پارٹی قیادت کے سامنے رکھیں گے،اس کیس میں سو فیصد قاتلوں کی گرفتاری چاہتے ہیں۔
صوبائی وزیر سعید غنی کی خاظری کے بعد احتجاج موخر کیا گیا

