جھوٹی خبرپر 30 لاکھ ہرجانہ،پنجاب اسمبلی میں ہتک عزت قانون منظور

پنجاب اسمبلی میں ہتک عزت قانون کا بل وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے ایوان میں پیش کیا

بل پیش کرنے پر صحافیوں نے پریس گیلری سے احتجاجا واک آؤٹ کیا جبکہ اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا جسے نظرانداز کرتے ہوئے ہتک عزت قانون کا بل منظور کیا گیا۔

بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا۔ جھوٹی اور غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا

بل کا یوٹیوب، ٹک ٹاک، ایکس/ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی اطلاق ہوگا،ہتک عزت کے کیسز کیلئے خصوصی ٹربیونلز قائم ہوں گے جو چھ ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

بل کے تحت 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہوگا، آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام کی صورت میں ہائی کورٹ کے بنچ کیس سننے کے مجاز ہوں گے۔

دوسری جانب حکومت نے صحافتی تنظیموں کی جانب سے بل موخر کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ صحافتی تنظیمیں بل سے متعلق اپنی تجاویز دینا چاہتی ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں