وزارت قانون نے جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے  آئینی درخواستوں پر سماعت کی تھی۔

جسٹس شوکت صدیقی کی آئینی درخواستوں پر سماعت 23 جنوری 2024 کو مکمل کی گئی تھی جس کا فیصلہ 22  مارچ 2024 کو سنایا گیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا گیا تھا  کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے

عدالتی فیصلے کے بعد وزارت قانون نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں