
بھارتی کسان پولیس کے بے ہیمانہ شدد کے باوجود اپنے حق پر ڈٹ گئے
کسانوں کی تحریک نے بھارت سرکار کو حلاکر دکھ دیا، رکاوٹوں کے باوجود مارچ منزل کی طرف رواں دواں ہے
کسان مظاہرین نے 21 فروری کو دہلی میں داخل ہونی کی دھمکی دی تھی، کسان یونینز نے پنجاب سے باہر احتجاج کو وسیع کرنے کی کال دے دی، چندی گڑھ میں مرکز کی تجاویز کو مسترد کرنے کے بعد 200 سے یونینز مارچ میں شامل
کسان رہنماؤں نے نئے نظام پر حکومت کی پیشکیش کو ٹھکرادیا
کسانوں نے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے ایم ایس پی پر دالوں، مکئی اور کپاس کی خریداری کی حکومتی تجاویز مسترد کرتے ہوئے تحریک شروع کردی
حواس باختہ مودی سرکار نے دہلی کی سرحدوں پر سکیورٹی بڑھادی مگر واجود اسکے 14ہزار سے زائد کسان پنجاب، ہریانہ شمبھوبارڈر پر جمع ہوگئے۔
کسان مظاہرین 1200 ٹریکٹرز کے ساتھ دہلی جانے کیلئے رواں دواں ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق مارچ میں لوگوں کی تعداد سے بھارتی دارالحکومت میں رکاوٹوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق کسان مزدور سرون سنگھ و دیگر کا کہنا تھا کہ کہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری مسائل حل کریں یا رکاوٹیں ہٹائی جائیں، آگے بڑھنا ہماری مجبوری بن گئی ہے، جو بھی ہوگا بھارت سرکار خود ذمہ دار ہوگی۔
