کراچی: ایم ڈی اے کا آپریشن، فائرنگ اور شیلنگ، بچہ جانبحق،متعداد زخمی

کراچی نادرن بائی پاس کے قریب گلشن سید ٹینٹ سٹی کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کے دوراں پولیس اور انسداد تجاوزات فورس نے سیلاب متاثرین پر لاٹھی چارج، شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جس سے متعدد زخمی ہوگئے اور علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ گولی لگنے سے 12 سالہ بچہ یونس ولد میر حسن چانڈیو جانبحق ہوگئے۔

کراچی (رپورٹ: نبی بخش خاصخیلی) مین ناردرن بائی پاس پر ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، روینیو ڈیپارٹمنٹ، انکروچمنٹ سیل اور  پولیس کی بھاری نفری گلشن سید ٹینٹ سٹی کو مسمار کرنے پہنچے تو رہائش پزیر متاثرین سیلاب سنے مزاحمت شروع کردی۔

علائقہ میدان جنگ بند گیا، گولی گلنے سے  12 سالہ معصوم یونس ولد میر حسن چانڈیو جاںبحق ہوگیا۔ جبکہ کئی افراد شدید زخمی ہو گئے، جاں بحق معصوم یونس اور زخمی افراد کو شاہد عباسی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

گلشن سید ٹینٹ سٹی کے بانی سید احمد شاہ کاظمی نے بتایا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی ڈاکٹر ندیم سہتو نے سیلاب متاثرین کے خلاف کارروائی کی اور مکانات کو مسمار کردیا ہے۔ جس کی شدید مذمت کرتا ہوں

سید احمد شاہ کاظمی علی شاہ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کی گئی، پر امن مظاہرین پر سیدھے فائر کیئے گئے، جس میں ایک معصوم 12 سالہ یونس چانڈیو جانبحق ہوگیا اور متعدد افراد زخمی ہیں۔

دوسری جانب ایم ڈی اے  انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی سے تجاوزات ہٹانے کے لیے آپریشن کیا ہے، یہ تیسر ٹاؤن کے سیکٹر ہے جس پر سیلاب متاثرین کے نام پر قبضہ کیا گیا تھا

انتظامیہ ایم ڈی اے کا مزید کہنا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا اور حملے کی بھی کوشش کی گئی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں