کشمور:مغویوں کی بازیابی کیلئے تیسرے روز بھی دھرنا، کاروبار بند

کشمورمیں مغویوں کی بازیابی کے لیے تیسری روز  بھی اقلیتی برادری اور مختلف تنظیموں کا انڈس ہائی وے پر دھرنا جاری ہے جبکہ کاروبار بھی بند رکھا گیا ہے۔

کندھکوٹ و کشمور کی ہندو برادری کی کال پر انڈس ہائی وے پر تین روز سے جاری دھرنے میں مختلف تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

شرکاء کا مطالبہ ہے کہ کچے کے ڈاکؤں سے ہندو مغویوں سمیت تمام مغویوں کو بازیاب کرایا جائے۔

کراچی دھرنے میں 24 گھنٹوں کے اندر مغویوں کی بازیابی کا اعلان کیا تیا تھا

کراچی: پاکستان ینگ ہندو فورم، منارٹی راٹس مارچ اور عورت مارچ ٹیم کی جانب سے تین تلوار پر دھرنا دیا گیا تھا۔

نزت شیرین شیما کرمانی، مکیش کمار کرارا، چندر گیانی، شام شاہانی، ڈاکٹر رمیش کمار، ڈاکٹر جیپال چہابڑیا و دیگرنے میں شرکت کی۔

شرکا کا کہنا تھا کہ کشمور و کندھکوٹ میں امن امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، اغوا کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام مغویوں کو بغیر تاوان کے بازیاب نہ کریا گیا تو پر وزیراعظم ہاؤس کے سامنے بھی دھرنا دیا جائے گا۔

مغویوں کی بازیابی کی یقین دیھانی پر دھرنا ختم کیا گیا

نگران صوبائی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز، سابق ایم این اے کشمور شبیر بجارانی اور میئر کراچی مرتضی وہاب دھرنے کے مقام پر پہنچے اور مطالبات سنے

مغوی ساگر کمار، ڈاکٹر منیر نائچ اور مکھی جگدیش کی بازیابی کی یقین دیھانی کرانے پر احتجاج ختم کیا گیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں