نظرثانی ایکٹ کو کالعدم قراردینا پارلیمنٹ کوکمزور کرنے کے مترادف ہے، لیاقت علی ساہی

سیاسی و سماجی رہنما لیا قت علی ساہی نے سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ سپریم کورٹ نظرثانی ایکٹ کو کالعدم قرار دیئے جانے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سیاہ ترین طور پر دیکھا جائے گا ریاست کے ادارے جب اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر اختیار ات کو استعمال کرتے ہیں تو ملکی سطح پر انتشار کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے، ملک کے دستور میں ترمیم کا اختیارصرف اور صرف پارلیمنٹ کو ہے ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ نظریہ ضرورت کے تحت ہماری جوڈیشری کے فیصلوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کی واضح مثال پرویز مشرف کی آمرانہ غیر آئینی حکومت کو نہ صرف سپریم کورٹ آف پاکستان نے درست قرار دیا بلکہ ایک ڈکٹیٹر کو وہ اختیار بھی دے دیا جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا یعنی کہ آئین میں اپنی منشاء کے مطابق ترمیم کرنے کا حق پرویز مشرف کو دیا گیا جس نے ایل ایف او کے تحت ملک کے دستور میں ترمیم کی گئیں جو ملک کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے بھی مترادف تھے جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایک آرڈیننس کے تحت تقسیم کیا گیا اور بعدمیں سیاسی بونوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ملک کے مرکزی بینک کی تقسیم کو تحفظ فراہم کر دیا گیا ۔

سپریم کورٹ میں گزشتہ ادوار میں جسطرح سو موٹو کی درخواستوں پر فیصلے جاری ہوئے ہیں وہ واضح طور پر انتقام نظر آتا ہے ایسی صورتحال میں پارلیمنٹ پر ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ قانون سازی کرکے سپریم کورٹ کو قانون سازی کرکے اس طرح کے بنچوں کی تشکیل میں شفافیت لائیں جس کی روشنی میںپارلیمنٹ نے سپریم کورٹ نظرثانی ایکٹ پاس کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان دو سینئر ترین جسٹس کی مشاورت کے ساتھ بنچ تشکیل دیں گے اور سو موٹو درخواستوں پر اپیل کا حق دیا گیا تھا تاکہ کسی بھی شہری کو سو موٹو مقدمے میں اپیل کے حق سے محروم کیا جاتا رہا ہے انہیں انصاف سے محروم کرنے کے مترادف ہے ، ایک اور اپیل ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے جس میں چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف تشکیل دیئے جانے والے بنچز کا سوال اُٹھایا گیا تھا

اصولی طور پر اس پر پہلے فیصلہ آنا چاہیے تھا چونکہ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار فارق مسعود نے چیف جسٹس کے دیئے ہوئے بنچ میں سماعت کرنے سے اس بات پر انکار کیا تھا کہ پہلے داخل کردہ درخواست پر فیصلہ کیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اختیار درست ہے کہ وہ بنچ تشکیل دینے میں بااختیار ہیں اس درخواست کا فیصلہ کئے بغیر ہی سپریم نظرثانی ایکٹ کو کالعدم قرار دینا سیاسی فیصلہ تصور کیا رہاہے جو کہ چوبیس کروڑ عوام کی بد قسمتی ہے کہ ملک اعلیٰ عدلیہ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے خود کو سیاسی بنیادوں پر تقسیم کر لیا ہے ، پارلیمنٹ کی طرف سے کی گئی قانونی سازی کو جواز بنا کر کالعدم قرار دینا پارلیمنٹ کے کردار کو ختم کرنے کے مترادف اس پر وکلاء ، مزدور، صحافی ، سول سوسائیٹی اور سیاسی پارٹیوں کو ملکی سطح پر تحریک کا آغاز کرنا چاہے ملک کی چوبیس کروڑ عوام کو ملک کے چند ججز کے فیصلوں کے رحم کرم پر چھوڑنا زیادتی ہوگی تمام طبقوں نے آزاد عدلیہ کیلئے طویل جدوجہد کی اور بیشمار صوبتیں برداشت کی ہیں جس میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو مضبوط کرنے کیلئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے اب وقت آگیا ہے کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد متحد ہو کر پارلیمنٹ کی بالادستی کو مضبوط کیا جائے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں