
سول سوسائٹی کی رہنما عائشہ دھاریجو، شیرین کھوکھو و سینیئر صحافی امداد سومرو نے عید کے دوسرے دن نامعلوم مقام پارس شاہ کے بیوہ فرزانہ اور اس کے والد سے ملاقات کی۔
صحافی امداد سومرو نے اپنے وال پر رکھی پوسٹ میں لکھا فیکٹ فائیڈنگ کمیٹی کی بہنیں جب عید کے دوسرے دن اپنے بال بچے چھوڑ کر سیکڑوں کلومیٹرشدید گرمی میں ویرانی اور جھنگل میں مسافت کرنے کے بعد جب فرزانہ سے ملیں تو آنسوں کے ضبط ٹوٹگئے، ایسا لگ رہا تھا کہ فرزنہ اپنے خاوند پارس اور بیٹی کشف کا درد اور غیر انسانی سلوک، اپنوں کی ناجائزی، پولیس کی سینازوری شیرین اور عائشہ ان کا درد محسوس کرکے نہ صرف رو رہیں تھیں مگر مینے بھی اس وقت اپنے آپ کو مظلوموں کے ساتھ روتے ہوئے دیکھا۔
امداد سومرو نے مزید لکھا کہ صرف کسی معمولی اور کوتاھ نظر کی انا کی تسکین کے لئے وہ جھنگل میں غیرانسانی حالتوں میں 24 گھنٹے روٹی اور میلے پانے پر زندگی گذارنے پر مجبور تھیں۔
امداد سومرو نےسوال کیا کہ کیا مصلحتوں کا شکار آئی جی سندھ غلام نبی میمن، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور چیف جسٹس آف سندھ جسٹس احمد علی شیخ ان کا درد محسوس کرینگے یا ان کی آواز اس لیے بے اثر ہوگی کیوں کے ان کے پاس سوشل میڈیا کی سپورٹ نہیں۔
https://www.facebook.com/100006928352225/videos/573571604963188/
