
کراچی: سندھ کے معروف شاعر و سوشل ورکر مھر ڈبائی نے اپنے وکیل کے معرفت درخواست دی اور اے وی ایل سی) کے سب انسپیکٹر پر ایف آئی آر دائر کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے اے وی ایل سی) کے سب انسپیکٹر پر ایف آئی آر دائر کرنے کا حکم دیدیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے مھر ڈبائی کا کہنا تھا کہ 19 جون 2023کو پولیس شہید شاہ عنایت میں میرے گھر میں داخل ہوئی اور 20 منٹس تک گھر والوں کے حبس بیجا میں رکھا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس میرے بیٹے شمروز خان کو لے گئی، عوامی پریشر پر 13 گھنٹے کے بعد اسے ہمارے حوالے کیا گیا جس پر تشدد کے واضح نشانات تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چوہدری جاوید عدالتی حکم پر بھی نہیں آئے،عدالت نے سچل پولیس سے پوچھا کے آپ نے چودھری جاوید کی اطلاع دی تھی، تو پولیس نے جواب دیا کہ جی انہیں آگاہ کیا گیا تھا۔
مھر ڈبائی کا کہنا تھا کہ میں سمجھتاہوں کے چودھری جاوید، اسلم چودھری بننے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہم عدالت سے انصاف کی امید رکھتے ہیں۔
اس موقعے پر ملیر بار ایسوسیئیشن کے صدر راؤ زاھد کا کہنا تھا کہ ہم نے جج صاحب کو بتایا کہ ظلم و زیادتی ہوئی ہے یہ پولیس گردی ہے۔
راؤ زاھد کا کہنا تھا کہ (اے وی ایل سی) کے سب انسپیکٹر چوہدری جاوید اور ارشد اعوان نے جو کیا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم انہیں بتانا چاہتا ہیں کے یہ پولیس اسٹیٹ نہیں بلکہ ویلفیئر اسٹیٹ ہے۔
