ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ انٹرنیشنل چلڈرنز ہیلتھ کانفرنس
کراچی: جدید ٹیکنالوجی نے دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود جدید علوم کی سہل دستیابی نے دنیا بھر کے لوگوں کو جدید علوم حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور انفرادی و قومی ترقی کی نئی راہیں ہموار کرنے کے نادر مواقع فراہم کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف سائنس دان، محقق اور سابق وفاقی وزیر پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمان نے کیا۔ وہ گزشتہ روز ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ انٹرنیشنل چلڈرنز ہیلتھ کانفرنس میں بہ طور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے، جو ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد(ہلال امتیاز) کی میزبانی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کی تھیم : "صحت کے لیے متحد ہوں، سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں” پر مقامی ہوٹل میں انعقاد پذیر ہوئی۔ کانفرنس میں عالمی ادارے صحت کے صوبہ سندھ کے سربراہ ڈاکٹر مختار بھایو، ہمدرد پاکستان کی منیجنگ ڈائریکٹر/ سی ای او فاطمہ منیر احمد، چیف آپریٹنگ آفیسر فیصل ندیم اور ڈائریکٹر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان سید محمد ارسلان سمیت دیگر معززین بھی شریک ہوئے۔ پاکستان کے دیگر شہروں اور کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے نونہال مقررین نے بہ ذریعہ زوم اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ جس برق رفتاری سے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا کردار کلیدی ہوتا جارہا ہے کوئی بعید نہیں ہم اگلے چند عشروں میں ہی ایسی دنیا دیکھیں گے جو آج کی دنیا سے مکمل طور پر مختلف اور جدید ہوگی۔ طبی شعبے میں ہونے والی تحقیق نے تو بنی نوع انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایسی چپ (Chip) تیار ہورہی ہیں جن کے ذریعے دماغی امراض جیسے پارکنسنز پر قابو پایا جاسکے گا۔ انسان اپنے دماغ سے اپنے اطراف موجود مشینیں اور آلات آپریٹ کرسکے گا۔ مصنوعی ذہانت کے کمالات تو ابھی سے ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ اسی طرح کمپیوٹیشن، کیمیکل، بائیولوجیکل اور انجینئرنگ کے مزید کئی شعبوں میں بھی نئی پیش رفت سامنے آرہی ہیں۔
یہ نئے شعبے آپ نونہالان کے لیے انفرادی و قومی ترقی کے مواقع پیدا کررہے ہیں۔ علوم پر ابھی چند ممالک کی اجارہ داری نہیں رہی ہے۔ سب انٹرنیٹ پر موجود ہے، جس سے آپ سب مستفید ہوسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی نسل کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لیے جامعات اور تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ اسی لیے انہوں نے بہ طور وفاقی وزیر ایچ ای سی کو فعال و منظم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ بچوں کی اپنی دلچسپی بھی بہت اہم ہے کیونکہ کام یابی وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو سخت محنت، ایمان داری اور علم حاصل کرنے کا جذبہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ لہذا آپ طلبہ بھی اپنے اندر یہ جذبہ پیدا کریں۔
محترمہ سعدیہ راشد نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ فطرت سے آگاہی کا نام سائنس ہے۔ یہ پہلے سے ہماری روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہے اور یہ ہمیں جراثیم جیسے نظر نہ آنے والے خطرات سے محفوظ رہنے کا علم دیتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی اس سال کی تھیم بھی اسی پیغام کی عکاسی کرتی ہے۔ اس وژن کا تصور شہید حکیم محمد سعید نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو صرف کتابوں سے نہیں بلکہ حقیقی دنیا کے پلیٹ فارم سے بھی سیکھنا چاہیے جہاں وہ اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔ سائنسی علوم پر دسترس حاصل کرکے ہی ہم اپنے ملک بلکہ پوری دنیا کے روشن مستقبل کی تعمیر کرسکتے ہیں۔فاطمہ منیر احمد نے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں پیچیدہ طبی مسائل ہمیں باور کروارہے ہیں کہ ہمیں اپنے ہیلتھ کیئر نظام کو فطرت سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سائنسی تحقیق کو مزید فعال کرنے کی جتنی ضرورت شاید آج ہے پہلے نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کی بدولت یونانی طب ایک جدید نظام صحت بن چکی ہے۔ یہ ارتقا دلیل ہے کہ روایتی علوم کو سائنس سے مزین کرکے انسان کے طبی و صحتی مسائل سے بہ حسن و خوبی نمٹا جاسکتا ہے۔ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کا یہی وژن تھا کہ وہ نونہالان کے لیے ایسے پلیٹ فارمز قایم کرنا چاہتے تھے جہاں ان کی فکری تربیت بھی کی جاسکے۔ مجھے آج کی کانفرنس کے کام یاب انعقاد پر بہت مسرت ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈ روس ادہانوم گھبریسس ، رینجل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بالخی اور پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کی ڈپٹی نمایندہ ایلین تھوم نے اپنے خصوصی تہنیتی پیغامات میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی محترمہ سعدیہ راشد کی قیادت میں قیام صحت کے لیے جدوجہد اور تین دہائیوں پر مشتمل متحرک کردار کو سراہا۔
کانفرنس میں مقامی اور غیر ملکی نونہال مندوبین نے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جن میں ڈاکٹر سید رضوان، عائشہ اقبال، محمد انس، طیبہ ہما سید صدیقی، سید محمد کاظم عباس شاہ اور ہاجرہ الیاس شامل ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں سے شرکت کرنے والے مندوبین میں درج شامل تھے:
سیدہ فاطمہ زہرا، ماما پارسی اسکول کراچی، مریم بنت عبدالحفیظ، کنگ جارج پنجم سیکنڈری اسکول ملائیشیا، ہانیہ فاطمہ سیکرڈ ہارٹ کانونٹ اسکول لاہور، زینب صدیقی، دی سٹی اسکول بیت المکرم کراچی، زویا مقصود ملتانی، ونیتا وشرم اسکول آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، عز محمد حسین پبلک اسکول، ہندوستان، پا کستان/شام آباد پبلک اسکول ملٹن ڈسٹرکٹ ہائی اسکول کینیڈا، توصیف احمد، ادرہ ریو اسکول اینڈ کالج کراچی، محمد حیات بلوچ، ایس او ایس چلڈرن ویلج اسکول کوئٹہ، فریحہ بابر، ایل ڈی اے ماڈل اسکول لاہور، ارفع نور، ہمدرد پبلک اسکول کراچی، فاطمہ خاور، سٹی ایجوکیشن اسکول سسٹم، راولپنڈی/اسلام آباد، یسرا آصف، ہمدرد ویلج اسکول کراچی، سیدنا حسین اسکول، ایف سی پی او کراچی، ایف سی اے ماڈل اسکول۔ صدیقی، حبیب گرلز اسکول کراچی، آمنہ صدیقی، حماد پبلک اسکول کراچی اور سیدہ حورین ارسلان، سینٹ جوزف کانونٹ اسکول کراچی۔
