واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ناقص منصوبہ بندی نے ٹاؤن کی 25  سال بعد تعمیر ہونے والی سڑک تباہ کردی:محمد یوسف

واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ناقص منصوبہ بندی نے ٹاؤن کی 25  سال بعد تعمیر ہونے والی سڑک تباہ کردی:محمد یوسف

کراچی: واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی مبینہ نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی ایک بار پھر عوامی مشکلات کا سبب بن گئی۔ نیو کراچی ٹاؤن سیکٹر 02   یونین کونسل شاہنواز بھٹو کالونی میں 25 سال بعد پیور بلاک سے تعمیر ہونے والی سڑک کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کھود کر تباہ کر دیا گیا، جس پر علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق

نیو کراچی ٹاؤن کی جانب سے حال ہی میں گلیوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت طویل عرصے بعد علاقے کی خستہ حال گلیوں کو پیور بلاک سے پختہ کیا گیا تھا، جس پر عوام نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ٹیم نے اچانک سڑک کو کھود کر بری طرح تباہ کر دیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس موقع پر چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن انتظامیہ ایک ہزار گلیوں کے منصوبے کے تحت علاقے کی پسماندگی ختم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ ہم نیو کراچی ٹاؤن کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اپنی محدود وسائل کے باوجود گلیوں کو پختہ کر رہے ہیں اور سیوریج و پانی کے مسائل بھی حل کر رہے ہیں، مگر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ناقص کارکردگی ہماری تمام کوششوں کو متاثر کر رہی ہے۔چیئرمین محمد یوسف نے مزید کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اپنے حصے کا کام کرنے کے بجائے پہلے سے تعمیر شدہ سڑکوں کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے کھود رہا ہے، جس سے عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ و اٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو چاہیے کہ بروقت اپنی لائنوں کی مرمت اور منصوبہ بندی مکمل کرے اور کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ٹاؤن کو اطلاع دی جائے اس کے بعد تعمیراتی کام کیا جائے تاکہ عوام کو بار بار مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن کا کہنا تھا کہ ٹاؤن انتظامیہ کئی مقامات پر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے کام بھی اپنے وسائل سے انجام دے رہی ہے، لیکن اس کے باوجود متعلقہ ادارہ تعاون کرنے کے بجائے تعمیری عمل میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔علاقہ مکینوں نے بھی اس صورتحال پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے بعد بننے والی سڑک کو تباہ کرنا شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ فوری طور پر سڑک کی بحالی کو یقینی بنائے اور آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے۔شہری حلقوں نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اداروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا جائے تاکہ عوامی منصوبے متاثر نہ ہوں اور ترقیاتی کام تسلسل کے ساتھ مکمل ہو سکیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں