صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کا چوری شدہ گاڑیوں سے متعلق تاریخی فیصلہ
چوری شدہ گاڑیوں کی ریکوری کے بعد سی پی ایل سی آن لائن و ٹیلیفونک تصدیق میں ریکارڈ کی عدم درستگی قانون کے منافی قرار
صوبائی محتسب سندھ کے مطابق گاڑی کی تصدیق سے متعلق دونوں طریقۂ کار یکسانیت نہ ہونے کے سبب گاڑی کی فروخت کے وقت قیمت کم لگائی جاتی ہے۔یکساں تصدیق نہ ہونے سے گاڑی کی قیمت کم لگنا فروخت کنندہ کے لیے نقصان، ذہنی ازیت کا باعث بنتا ہے۔یہ سارا عمل گاڑی کی قانونی حیثیت کو بھی مشکوک بناتا ہے۔
محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ چوری شدہ گاڑی کی ریکوری اور تمام قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد سی پی ایل سی کو تمام تصدیقی عمل میں گاڑی کو کلیئر ظاہر کرنا چاہیے۔سی پی ایل سی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے PLD 2026 لاہور 84 اور مروجہ عالمی طرز عمل کے مطابق اپنی ایس او پیز پر نظر ثانی کرے۔
صوبائی محتسب سندھ کی سی پی ایل سی کو 45 دن میں احکامات پر عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
شکایت کنندہ محمد علی لاشاری نے موقف اختیار کیا تھا کہ انکی گاڑی آن لائن سی پی ایل سی میں کلیئر جبکہ بذریعہ ٹیلیفون چوری شدہ ظاہر ہورہی ہے۔
شکایت کنندہ کی گاڑی اگست 2006 میں چوری اور اکتوبر 2006 میں بازیاب ہوئی تھی۔
محمد علی لاشاری نے کہا کہ تمام قانونی تقاضوں کی تکمیل اور مزید دو نئے مالکان کی جانب سے فروخت کے بعد اب وہ چوتھا مالک ہے۔واقعے کے 19 سال بعد بھی سی پی ایل سی میں ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونا انکے لیے نقصان کا باعث اور قانون کے منافی ہے، شکایت کنندہ
صوبائی محتسب سندھ نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں فریقین کو طلب کرکے مختلف سماعتوں میں کیس کی جانچ کی تھی۔
