عمرکوٹ پولیس کی کارروائی، 10 خواتین گرفتار، ہڑتال کا اعلان

عمرکوٹ پولیس کی کارروائی، 10 خواتین گرفتار، ہڑتال کا اعلان

عمرکوٹ: عمرکوٹ پولیس نے سولنگی برادری کے گھروں پر چڑھائی کے بعد 10 سے زائد خواتین کو گرفتار کرلیا جس کے بعد سخت احتجاج کیا گیا۔

مختلف تھانوں کی پولیس سلطان چوک کے قریب خواتین اہلکاروں کے ہمراہ سولنگی برادری کے گھر خالی چرانے کے لیے پہنچی تو خواتین نے گھر خالی کرنے سے انکار کردیا۔

پولیس نے زبردستی گھر خالی کرانے کے لئے خواتین و بچیوں کو گھسیٹتے ہوئے موبائیلوں میں ڈال دیا۔

متاثرین نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، دھرنا دیا اور شدید نعرے بازی کی۔

پورٹس کے مطابق سید اور سولنگی برادری میں پلاٹ پر تنازع سالوں سے چلتا آرہا ہے، عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے پولیس نے کارروائی کی۔

سولنگی برادری کی خواتین اور مردوں جن میں خیر محمد، تاج محمد، محمد عرس، جمیلان، کریمین، زرینہ اورکا کہنا تھا کہ ہم یہاں ایک صدی سے زائد عرصے سے رہ رہے ہیں لیکن پولیس ہمیں بااثر کی چرچ پر بے دخل کرنا چاہتی ہے اور دو دن سے ہمارے نوجوانوں کو گرفتار کر رہی ہے اور اب ہمارے گھروں پر چھاپے مار کر خواتین کو اغوا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف مقدمات درج کرائے گئے جو کہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ ہم غریب اور نادار لوگ ہیں جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ہمارے گھروں پر قبضہ ختم کرایا جائے اور ہمارے مکانات واپس کئے جائیں اور درج مقدمات بند کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔

دریں اثناء پی ٹی آئی رہنما لال مالہی، ایس ٹی پی رہنما مہر بنگلانی، ایس یو پی رہنما حاجی ساند، گل بجیر، ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف منگریو، وکیل میاں بخش کھوسو، پی پی پی لیڈیز ونگ کی رہنما نورجہاں گیلہارو، برہان الدین کنبھر سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور دیگر نے اظہار ہمدردی کیا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایس ٹی پی رہنما مہر بنگلانی، ایس یو پی رہنما حاجی ساند اور دیگر نے کہا کہ ہم سولنگی برادری کے گھروں پر پولیس کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ انتہائی غلط عمل ہے کہ پولیس نے عام خواتین کی تذلیل کی اور انہیں اس طرح گرفتار کیا۔ انتظامیہ فوری نوٹس لے۔

دوسری جانب عمرکوٹ میں 27 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی۔

پی ٹی آئی رہنما لال مالہی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی غریبوں کو نیا گھر دینے کے بجائے پولیس کی مدد سے غریبوں کے پرانے مکانات مسمار کر رہی ہے۔ ظلم و جبر کا نظام زیادہ دیر نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام انصاف فراہم کرنا ہے لیکن یہاں پولیس کام کر رہی ہے۔ ایس ایس پی عمرکوٹ کو فوری ہٹایا جائے اور سولنگی برادری کے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔ خواتین کی تذلیل اور پولیس کی بربریت کے خلاف ہم کل (آج) عمرکوٹ شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دیتے ہیں۔ شہری اپنے کاروبار بند کر کے سولنگی برادری سے اظہار ہمدردی کریں۔

اودھر پلاٹ کے دعویدار حبیب اللہ شاہ اور ان کے بھائیوں علی حیدر شاہ کا کہنا ہے کہ سروے نمبر 909/16 والا پلاٹ جس کا کل رقبہ تقریباً 10600 مربع فٹ ہے، انہوں نے عالم پلی سے خریدا تھا اور پوری رقم ادا کر دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پلاٹ پر تنازع کے بعد معاملہ ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا جہاں کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ ان کے حق میں سنایا گیا۔ اس کے بعد کیس عدالت میں گیا اور 2017 میں عدالت نے بھی ان کے حق میں فیصلہ دیا۔

حبیب اللہ شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پلاٹ 1998 میں خریدا گیا تھا، جب کہ رجسٹریشن 2017 میں مکمل ہوئی تھی، اور گزشتہ 30 سال سے جاری مقدمات میں ہر بار فیصلہ ان کے حق میں ہوتا رہا ہے

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں