بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر اور ضلع کونسل کے مابین آصفہ بھٹو زرداری کے نام سے تاریخی معاہدہ
سکھر: ضلع کونسل سکھر کی جانب سے چیئرمین ضلع کونسل سید کمیل حیدر شاہ اور بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی روہڑی- سکھر کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ نے خواتین کی تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم اور مؤثر قدم اٹھاتے ہوئے ایسوسیئیشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹس (اے سی سی اے) پروگرام کے فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مفاہمتی یادداشت نامے (MoU) پر دستخط کر دیے گئے۔
اس موقع پر بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر سکھر ڈویژن عابد سلیم قریشی نے ضلع کونسل اور یونیورسٹی کے مابین یادداشت نامہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقی کا حقیقی سفر تعلیم اور تحقیق سے ہی شروع ہوتا ہے، آج ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا راز ہی یہ ہے کہ وہ تعلیم اور یونیورسٹیوں پر حد درجہ توجہ دیتے ہیں، انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں دیگر ضلعی چیئرمینز کو بھی یہ توفیق حاصل ہو کہ وہ بھی تعلیمی اداروں کو اسی جذبے اور محنت سے آگے لے کر چلیں۔ کمشنر سکھر ڈویژن نے مزید کہا کہ ضلع کونسل ٹیم اور قومی یونیورسٹی کی ٹیم کی محنت اور پیشہ ورانہ لگن کو دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے کہا کہ اے سی سی اے جیسے بین الاقوامی پروگرام نوجوان خواتین کو معاشی طور پر مستحکم اور خودمختار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے اور مقامی سطح پر ایسے پروگراموں کا آغاز خطے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مؤثر اشتراک نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بناتا ہے بلکہ نئی مہارتوں کے فروغ، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور خواتین کی عملی میدان میں شمولیت کو بھی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع کونسل سکھر مستقبل میں بھی ایسے فلاحی اور تعلیمی منصوبوں کی بھرپور سرپرستی کرتی رہے گی.
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آصفہ بھٹو زرداری کے نام سے منسوب معاہدہ سکھر اور گرد و نواح کی طالبات کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا بنیادی مقصد انہیں عالمی معیار کی اکاؤنٹنگ اور فنانس کی تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے طالبات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا، جس سے ان کے لیے ملکی و غیر ملکی اداروں میں روزگار کے بہتر امکانات پیدا ہوں گے۔
تقریب کو مخاطب دیگر مقررین نے اس معاہدے کو خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی کی جانب ایک مثبت اور دور رس نتائج کا حامل اقدام قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت نامے سے نہ صرف خطے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوان خواتین کے لیے باعزت روزگار، مالی خودمختاری اور قیادت کے مواقع بھی میسر آئیں گے، جس سے سکھر ڈویژن میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔ تقریب میں متعلقہ ضلعی افسران، فیکلٹی ممبران و دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
