مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم کا مستقل حصہ بن چکی ہے: کراچی میں گول میز کانفرنس
کراچی: کراچی انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ ٹیکنالوجی (KIET) کے نارتھ ناظم آباد کیمپس میں”اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت: جدت و تعلیمی دیانت داری“ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی ڈینز راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت KIET کے قائم مقام صدر، پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد خان نے کی۔ افتتاحی کلمات میں پروفیسر ڈاکٹر خالد خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) تیزی سے اعلیٰ تعلیم کے منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے، اور اس تبدیلی کے تناظر میں جامعات پر لازم ہے کہ وہ جدت اور تعلیمی دیانت داری کے درمیان متوازن، ذمہ دارانہ اور پالیسی پر مبنی راستہ اختیار کریں۔ یہ علمی اجلاس انڈس AI ویک 2026 کے تحت ایک شراکت دار تعلیمی سرگرمی کے طور پر منعقد ہوا، جو قومی Week AI کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور حکومت سندھ کی کوششوں کی تکمیل کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
اجلاس کا مقصد پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی، ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے حوالے سے جاری قومی مکالمے میں تعلیمی شعبے کا فعال کردار اجاگر کرنا تھا۔اجلاس میں کراچی کی مختلف سرکاری اور نجی جامعات کے ڈینز اور سینئر تعلیمی قائدین نے شرکت کی، جن میں سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ضیاءالدین یونیورسٹی، اقراءیونیورسٹی، وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی، محمد علی جناح یونیورسٹی، یو آئی ٹی یونیورسٹی، ملینیم انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ، سہیل یونیورسٹی، الکوثر یونیورسٹی اور بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی شامل تھیں۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت اب اعلیٰ تعلیم کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی دیانت داری، فکری معیار اور اصل علمی کاوش کے تحفظ کے لیے واضح پالیسیوں، جدید تشخیصی نظام اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہیں۔ KIET نے معزز مہمانوں کی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مشاورتی علمی اجلاس مستقبل کی اعلیٰ تعلیم کے لیے نہایت اہم ہیں۔
