ڈپٹی کمشنر ویسٹ کی سربراہی میں فائر سیفٹی آڈٹ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن اجلاس

ڈپٹی کمشنر ویسٹ کی سربراہی میں فائر سیفٹی آڈٹ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن اجلاس

کراچی: ڈپٹی کمشنر ویسٹ ذوالفقار علی میمن کی سربراہی میں ڈی سی آفس میں فائر سیفٹی آڈٹ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن اجلاس منعقد ہوا، جس میں منگھوپیر ٹاؤن کے چیئرمین حاجی نواز علی بروہی نے نہ صرف  شرکت کی بلکہ فائر سیفٹی اقدامات کے حوالے سے واضح اور مضبوط مؤقف بھی پیش کیا۔ اجلاس میں منگھوپیر، اورنگی اور مومن آباد ٹاؤنز کے سپرنٹنڈنٹ انجینئرز، انتظامی افسران اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں منگھوپیر ٹاؤن کے میونسپل کمشنر احمد یار، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن حافظ محمد شیخ، انچارج سروے فائر سیفٹی آڈٹ  غفار جتوئی موجود تھے۔ اس کے علاوہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و نمائندگان بھی اجلاس میں شریک تھے۔

اجلاس میں حالیہ گل پلازہ سانحے کے تناظر میں فائر سیفٹی کے نظام پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام بڑی اور بلند عمارتوں  کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ ایک ہفتے کے اندر مکمل کرکے چیف سیکریٹری سندھ کو جمع کرائی جائے۔ اس موقع پر منگھوپیر ٹاؤن نے دیگر ٹاؤنز کے مقابلے میں سب سے پہلے رپورٹ جمع کرانے کا عزم ظاہر کیا، جسے انتظامیہ نے سراہا۔

اس موقع پر چیئرمین منگھوپیر ٹاؤن حاجی نواز علی بروہی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:“گل پلازہ کا افسوسناک واقعہ ہم سب کے لیے ایک سخت وارننگ ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے اور فائر سیفٹی کے معاملے پر کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ منگھوپیر ٹاؤن میں تمام بڑی عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ شفاف، جامع اور عملی بنیادوں پر کیا جائے گا اور رپورٹ مقررہ مدت سے قبل چیف سیکریٹری سندھ کو جمع کرائی جائے گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ منگھوپیر ٹاؤن انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور SBCA کے تعاون سے ایک مضبوط اور مؤثر فائر سیفٹی میکنزم تشکیل دیا جا رہا ہے۔

“ہم صرف کاغذی کارروائی نہیں چاہتے بلکہ زمینی حقائق پر مبنی عملی اقدامات یقینی بنائیں گے تاکہ آئندہ کسی بھی سانحے سے قبل مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔”

چیئرمین حاجی نواز علی بروہی نے افسران کو ہدایت کی کہ آئندہ مرحلے میں فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹس کو مزید بہتر، جامع اور تکنیکی بنیادوں پر تیار کیا جائے اور تمام قانونی تقاضوں کو مدِنظر رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ گل پلازہ سانحے کے بعد فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کریں گے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے اور کراچی میں فائر سیفٹی کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں