نیوکراچی سیکٹر11-J کی 25 گلیوں میں پیور بلاکس کی تنصیب مکمل، چیئرمین نے افتتاح کردیا

نیوکراچی سیکٹر11-J کی 25 گلیوں میں پیور بلاکس کی تنصیب مکمل، چیئرمین نے افتتاح کردیا

کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے کہا کہ سیکٹر 11-J میں آج 25 گلیوں میں پیور بلاکس لگانے کا کام مکمل ہوا ہے تاہم ترقی کا یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مرحلے میں گلیوں کو روشن کرنے کے لیے اسٹریٹ لائٹس بھی نصب کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں پانی اور سیوریج کے متعدد منصوبے بھی مکمل کیے جا چکے ہیں اور محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔

اس موقع پر یوسی چیرمین 11غضنفر علی خان، وائس چیئرمین یوسی11عمران شفیق اورٹاون اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین عمران فقیر اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ جماعتِ اسلامی ایک بااختیار اور وسائل سے آراستہ بلدیاتی نظام کی حامی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام سے ہر سطح پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ ایک بجلی کے بل میں 16 اقسام کے ٹیکس شامل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی شدید پانی کے بحران کا شکار ہے اور سردیوں کے موسم میں بھی کئی علاقوں میں لائنوں کے ذریعے پانی دستیاب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس ظالمانہ نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور جو وسائل ہمارے پاس موجود ہیں انہیں امانت، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ نیو کراچی ٹاؤن کے عوام پر خرچ کر رہے ہیں۔چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن نے دعویٰ کیا کہ کم وسائل کے باوجود نیو کراچی ٹاؤن میں مثالی ترقیاتی کام کیے گئے ہیں اور کراچی کے 25 ٹاؤنز میں سے کسی ایک میں بھی اتنا کام نہیں ہوا جتنا نیو کراچی ٹاؤن میں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ KMC کا سالانہ بجٹ 55 ارب روپے ہونے کے باوجود وہ ترقیاتی کاموں میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت کیا جائے، کیونکہ پانی اور سیوریج کے مسائل پر عوام اپنے منتخب نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں نہ کہ صوبائی اداروں سے۔ اسی طرح سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے۔ کچرا اٹھانے کا کام بھی مؤثر انداز میں نہیں ہو رہا۔چیئرمین محمد یوسف نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں نیو کراچی ٹاؤن میں واٹر اینڈ سیوریج کے منصوبوں پر 9 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ 20 ہزار سے زائد گھروں تک پینے کا صاف پانی پہنچایا گیا اور ٹینکر مافیا کو شکست دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سیوریج لائنوں کی تنصیب، کچرا اٹھانے اور دیگر بلدیاتی خدمات کے لیے ذاتی سطح پر بھی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ واٹر اینڈ سیوریج اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے ادارے اگر ٹاؤن کے ماتحت ہوں تو عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ کمزور بلدیاتی نظام کے باوجود نیو کراچی ٹاؤن کو سنوارنے کی کوششیں جاری ہیں اور عوام کو ممکنہ حد تک سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

آخر میں چیئرمین محمد یوسف نے سیکٹر 11-J کے عوام سے کہا کہ یہ تمام ترقیاتی کام عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کیے گئے ہیں لہٰذا ان کی حفاظت کرنا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ نوجوانوں اور عوام کی تفریح و صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سیکٹر 11-J میں جلد ایک جدید اور معیاری پارک کی تعمیر کا آغاز کیا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر علاقہ مکینوں نے ترقیاتی کاموں کو سراہتے ہوئے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں