
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دودھ پر ٓ9 فیصد ٹیکس لگانے کی بات درست نہیں، ملک میں 90 فیصد کھلا دودھ بکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دودھ پر سیلز ٹیکس کی بات ہوئے جس پر حیرانگی ہوئی، تجاویز تھیں کہ ڈبے کے دودھ پر ٹیکس لگایا جائے لیکن کلیئر کرنا چاہوں گا دودھ پر کوئی سیلز ٹیکس نہیں لگا۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس بھی سوچ سمجھ کر لایا گیا، خوردنی تیل کی درآمد پر سیلز ٹیکس ختم نہیں کیا گیا، قومی بچت اسکیم یکم جولائی سے لاگو ہو گی
وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے پلان بی ہوتا ہے، پلان بی پر پبلک میں بات نہیں ہو سکتی۔
انہوں کہا کہ ڈیفالٹ کی رٹ لگانے والے خود ذمے دار ہیں،پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جولائی میں پہلے ایئر پورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا اشتہار دینے کا ارادہ ہے،ایڈہاک ریلیف تنخواہ پر دیا گیا اس کا اطلاق الاؤنس پر نہیں ہوتا۔
