سندھ صحت کے شعبے میں ڈجیٹل فریم ورک اور ٹیلی میڈیسن نظام متعارف کرائے گا:ندا کھڑو

سندھ صحت کے شعبے میں ڈجیٹل فریم ورک اور ٹیلی میڈیسن نظام متعارف کرائے گا:ندا کھڑو

اتائیت کی روکتھام کیلئے ہائیرایجوکیشن کمیشن ایم بی بی ایس کے نام سے مشابہ ڈگری پروگرام بند کرے، جوائنٹ ریگیولیٹر فورم کا اعلامیہ

کراچی: ملک بھر کے تمام طبی سرکاری اداروں اور صحت سے متعلق کونسلز نے مشترکہ طور پر ایسے تمام ڈگری پروگرام ختم کرنے یا انکا نام تبدیل کرنے پر زور دیا ہے، اس مشترکہ فورم نے صحت سے متعلق سہولیات کی فراہمی میں احتساب کا نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن  کی میزبانی میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے جوائنٹ ہیلتھ کیئرریگولیٹرز فورم کا تیسرا اجلاس کراچی میں منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں رکن سندھ اسیمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ندا کھڑو نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اس لیے سندھ میں اب ڈیجیٹل ہیلتھ فریم ورک بنانے پر کام ہورہا ہے جس میں ٹیلی میڈیسن، ای پرسکرپشن اور آن لائن فارمیسیز کا احاطہ کیا جائے گا۔

انہوں نے صحت کی خدمات میں پائے جانے والے خلاء کو ختم کرنے کے لیے نجی شعبے میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی مستقل کوششوں کی تعریف کی اور مزید کہا کہ سندھ میں کلینیکل گورننس اکیڈمی قائم کی جارہی ہے تاکہ صحت کے عملے کو کوالٹی اشورنس، رسک مینجمنٹ اور ٹھوس پالیسی مرتب کرنے کی تربیت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اب تمام صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے عالمی معیار کے مطابق کنٹینیونگ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (CPD)  تربیت کو لازمی طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر لوو ڈپینگ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او پاکستان میں جوائنٹ ریگیولیٹرس کے اس فورم کی حمایت کرتا ہے، جو ملک میں صحت کے نظام میں ریگولیٹری اور احتسابی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکیستان میں صحت کے نظام کی لچک کو بڑھانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں کی مدد کر رہے ہیں۔

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے سیکرٹری حامد یعقوب شیخ نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی متعارف کرائی ہے اور تھیلیسیمیا سے بچاؤ اور جینیاتی امراض کی پالیسی کا مسودہ بھی تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے تمام صوبائی اور دیگر ہیلتھ کیئر ریگولیٹرز پر زور دیا کہ وہ ان پالیسیوں کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں نافذ کریں۔

سی ای او سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے کہا کہ ہمیں اپنے ایکٹ اور قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے، گزشتہ 78 سالوں میں صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے ڈرامائی تبدیلی آئی ہے، نئی ٹیکنالوجیز اور علاج کے طور طریقے سامنے آئے ہیں جو کہ موجودہ دور کے دستاویزات میں کہیں نظر ہی نہیں اتے۔ ایچ ای سی ایسے ڈگری پروگرامز پر نظرثانی کرے جن کے نام علاج کرنے والے شعبوں سے ملتے جلتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا ہیلتھ کیئر سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پروگرام اتائیت پھیلانے میں کردار ادا کررہے ہیں۔ ایچ ای سی کو مداخلت کرنی چاہیے اور ایسے تمام ڈگری پروگراموں کو ختم کرنا چاہیے یا پھر انکے نام تبدیل کرنے چاہئیں جو ایم بی بی ایس کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

چیئرپرسن ایس ایچ سی سی ڈاکٹر خالد شیخ  نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ پاکستان بھر میں صحت کی دیکھ بھال کے تمام عہدیداروں کی موجودگی مشترکہ قومی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ آج کے اجلاس نے اس پلیٹ فارم کی فوری ضرورت، بے پناہ اہمیت اور اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔

اجلاس میں سی ای او بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر نور محمد قاضی، سی ای او اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی ڈاکٹر سید احمد رضا کاظمی، سی ای او کے پی ڈاکٹر ندیم اختر، فارمیسی کونسل آف پاکستان اورالائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل کے صدور، سی پی ایس پی کے نمائندے، ہائر ایجوکیشن کمیشن، وفاقی وزرات صحت، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، نیشنل کونسل آف طب، نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ پروگرام کے آخر میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کو شیلڈز پیش کی گئیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں