گلشن اقبال کراچی کی گلناب سوسائٹی میں ماڈل محلے کا افتتاح
ریڈ لائن شہر کراچی بالخصوص گلشن اقبال کے لوگوں کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ منصوبہ اکتوبر 2023 میں مکمل ہونا تھا جو اگلے 4 سال میں بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا:منعم ظفر
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا ہے کہ ریڈ لائن شہر کراچی بالخصوص گلشن اقبال کے لوگوں کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ ریڈ لائن منصوبے کو اکتوبر 2023 میں مکمل ہونا تھا جو اگلے 4 سال میں بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا
امیرِ کراچی جماعتِ اسلامی منعم ظفر نے امیرِ ضلع شرقی نعیم اختر، چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد اور وائس چیئرمین ابراہیم صدیقی کے ہمراہ یوسی 6 گلناب سوسائٹی نزد سماما شاپنک سینٹر یونیورسٹی روڈ میں ماڈل محلے کا باقاعدہ افتتاح کردیا
اس موقع پر نائب امیر ضلع شرقی انجینئر عبد العزیز ، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد ،وائس ٹاؤن چئیرمین ابراہیم صدیقی ،چیئرمین یوسی 6 ناصر اشفاق،وائس چیئرمین عادل محمد، آصف حسن، اشعر عماد اور ناظمِ علاقہ نبیل فاروقی سمیت بڑی تعداد میں علاقہ مکین بھی موجود تھے
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شہر کراچی ملک کی لائف لائن ہے لیکن کراچی کے شہریوں کے لیے 24 سال میں ایک بوند پانی کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔ وفاقی حکومت کے نمائندے وزارتوں میں مزے لیتے رہے لیکن شہریوں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ کراچی کے باسی محنت کرتے ہیں لیکن شہریوں کا مسائل حل نہیں ہوتے۔گلشن اقبال ٹاؤن کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ٹیم ورک کے ساتھ کام کیا۔ آج جس طرح گلشن اقبال میں ماڈل محلہ بنا ہے اسی طرح جماعت اسلامی کے بقیہ ٹاؤنز میں بھی ماڈل محلے بنائے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی تاریخ خدمت، امانت و دیانت کا نام ہے۔ جماعت اسلامی امید سے یقین کا سفر ہے جو ماضی میں بھی تھا اور مستقبل میں بھی رہے گا۔
سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں کراچی کے عوام نے خدمت اور دیانت کے سفر کو دیکھا تھا۔ گزشتہ 2 سال میں جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز میں 170 سے زائد پارکس کو بحال کیا ہے۔ ہم نے مختصر وقت میں نوجوان نسل کے لیے کھیلوں کے میدانوں کو آباد کیا ہے۔ہمارا اگلا ہدف گلیوں میں پیور بلاکس لگانا ہے۔
جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینوں نے اعلان کیا کہ 600 گلیوں میں 60 دنوں میں پیور بلاکس لگائیں گے۔جماعت اسلامی نے محدود وسائل میں ترقیاتی کام کروائے ہیں۔ جماعت اسلامی نے 1 لاکھ سے زائد اسٹریٹ لائٹس لگائی ہیں۔ جماعت اسلامی نے عزم کیا ہے کہ اپنے وسائل سے بڑھ کر خوف خدا رکھتے ہوئے بندگان خدا کی خدمت کریں گے
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کے حقوق پر کسی بھی صورت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ کراچی کے وسائل پر جن لوگوں نے ڈاکا ڈالا ہے چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم ان سے اختیارات چھین کر لیں گے۔ کے الیکٹرک کا مسئلہ ہو یا نادرا کا مسئلہ ہو ہم نے قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔ قابض مئیر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر پارکس کی نجکاری کی اسکیم لائے جس کے خلاف جماعت اسلامی نے عدالت میں چیلنج کیا۔عدالت نے جماعت اسلامی کے حق میں فیصلہ کیا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر اسکیم کو ختم کردیا۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی ہے جو کراچی کے شہریوں کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کا تعاقب جاری رکھا ہے۔ ہائی کورٹ ہو یا سپریم کورٹ پر جگہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں بجلی کے یونٹ میں 7.30 روپے فی یونٹ ٹیرف میں کمی کروائی۔
منعم ظفر نے وزیر اعلی سندھ کو متنبہ کیا کہ شہر کے لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم کے لیے لائی گئی تھی۔ڈیموکریسی کا نام لینے والے لوگ اختیارات کو نچلی سطح پر دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کچرا اٹھانے کا کام اور سیوریج کے مسائل کے حل کی ذمہ داری واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ہے۔
جماعت اسلامی کے ٹاؤن چئیرمین محدود وسائل میں ایسے مسائل بھی حل کروائے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں آتے۔ ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد نے کہا کہ ہم نے اہلیان گلشن اقبال سے وعدہ کیا تھا اور آج ہم وعدہ پورا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ہم نے ماڈل محلے کی ابتداء یوسی 6 سے کی ہے اور گلشن اقبال کی ہر یوسی میں ماڈل محلے قائم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مئیر شپ کے حق پر ڈاکا ڈالا جس کی وجہ سے پورا کراچی کھنڈر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔وسائل کی کمی کے باوجود ہم محدود وسائل میں بھی عوام کی خدمت کریں گے اور مسائل حل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گلشن اقبال میں گزشتہ دو سال میں 32 سڑکوں کی استرکاری کی گئی ،14 ہزار اسٹریٹ لائٹس ،18 پارکس کو بحال کیا ہے۔ اس موقع پر
علاقہ مکینوں نے ماڈل محلے کے قیام پر چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد اور پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ تمام بلدیاتی سہولیات سے آراستہ اس ماڈل محلے کا قیام ایک خواب تھا جسے عملی نمونہ جماعت اسلامی نے دیا۔
