افسران کام کریں ورنہ  گھر بیٹھیں:وزیرِ صحت سندھ کا شدید اظہار برہمی

افسران کام کریں ورنہ  گھر بیٹھیں:وزیرِ صحت سندھ کا شدید اظہار برہمی

محکمہ صحت کامقصد عوام کو بہتر سہولیات دینا، افسران ذمہ داریاں پوری کریں،عوامی صحت پرسمجھوتہ نہیں، کام کریں ورنہ  گھر بیٹھیں، کراچی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کے اجلاس میں وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا شدید اظہار برہمی

کراچی: محکمہ صحت کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ تمام افسران ذمہ داریاں پوری کریں۔ عوامی صحت کے معاملات میں کوتاہی بلکل برداشت نہیں۔ جو کام نہیں کرتا گھر بیٹھے۔ کراچی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کے اجلاس میں وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہر ضلع میں بنیادی سطح پر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ کسی مرکز میں ادویات یا عملے کی کمی برداشت نہیں۔ اپنی رپورٹ کو درست اور شفاف رکھیں۔ میں خود جانچ کروں گی۔

اجلاس میں سیکریٹری محکمہ صحت ریحان بلوچ سمیت تمام اضلاع کے ڈی ایچ اوز نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں۔ اجلاس میں وزیر صحت کی جانب سے تمام اضلاع میں ڈی ایچ اوز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بنیادی مراکزِ صحت میں لیبر رومز، اے این سی و پی این سی سہولیات، ادویات کی دستیابی، ویکسینیشن، اسٹاف کی حاضری، خاندانی منصوبہ بندی پروگرام اور ٹی بی علاج کی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں تمام ڈی ایچ اوز نے اپنے اضلاع کے حوالے سے بریفنگ دی جس پر وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے جیکب آباد کی کارکردگی پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ جو کام نہیں کرے گا اسے فوراً نکال دیا جائے گا۔  بہانے بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے تمام ڈی ایچ اوز کو حکم دیا کہ وہ ویکسینیٹرز کا واضح راسٹر اور مائیکرو پلان بنائیں کہ کون سا اہلکار کب، کہاں اور کس وقت کام کرے گا۔ جو ویکسینیٹر مقررہ وقت پر دستیاب نہ ہو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ڈیوٹی کے اوقات کی مکمل پابندی کی جائے۔ آؤٹ ریچ سرگرمیاں مکمل ہونی چاہئیں۔ تمام تعیناتیاں صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گی۔ کسی سیاسی سفارش یا دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزیرِ صحت نے سیکریٹری صحت ریحان بلوچ کو ہدایت کی کہ “تمام فہرستیں مرتب کی جائیں اور تقرریاں محکمہ کی سفارشات پر کی جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔وزیرِ صحت نے حکم دیا کہ “تمام اضلاع اپنے ویکسین اسٹاک کو برقرار رکھیں۔ ویکسین قلت کسی صورت قبول نہیں۔ ہر ڈی ایچ او بچوں کی فہرست، ویکسینیشن پلان اور آؤٹ ریچ رپورٹ تیار کرے اور بچوں کی عمر بارہ سال سے کم کی تفصیل جمع کرائے۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اعلان کیا کہ “17 سے 29 نومبر تک ایم آر ویکسینیشن مہم شروع ہوگی۔ تمام ڈی ایچ اوز اس کی مکمل تیاری کریں۔ ایک وائل کی 10 خوراکیں 6 گھنٹوں میں استعمال کی جائیں۔ ویکسین ضائع ہونا سخت غفلت تصور کیا جائے گا۔  صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، ویکسینیٹرز کی تربیت، شناختی کارڈز اور رابطہ نمبرز کی تصدیق کی جائے۔ کوئی اہلکار سوئی یا وائر کے اوپری حصے کو ہاتھ نہ لگائے۔تمام اسکولوں میں انتظامات لازمی کیے جائیں، سی ایس اوز اور اسکول میٹنگز کے ذریعے آگاہی مہم فوری شروع کی جائے تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔

وزیرصحت نے ڈی ایچ او کیماری اور ویسٹ کو غیر ویکسینیٹڈ بچوں کی ویکسینیشن کے عمل کو جلد پورا کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ تمام انتظامی، تعلیمی اور صحت کے محکمے مل کر اس مہم کو کامیاب بنائیں۔سیکریٹری صحت فوری طور پر متعلقہ افسران سے ملاقات کرکے رکاوٹوں کو دور کریں۔

ٹی بی پروگرام پر وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے حکم دیا کہ دواؤں کی قلت دور کی جائے،  پیڈیاٹرک اسٹاف کو ہنگامی بنیادوں پر تربیت دی جائے، پی پی ایچ آئی کے ساتھ مل کر اس پروگرام کو فعال بنایا جائے۔خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے تمام ڈی ایچ اوز اپنی کوریج رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔وزیرِ صحت نے آخر میں تمام ڈی ایچ اوز کو تنبیہ کی کہ صوبے کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولتیں پہنچانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ میں ذاتی طور پر ان تمام معاملات کی نگرانی کررہی ہوں۔ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں