پی اے سی نے محکمہ کالیج ایجوکیشن کے سیکشن آفسر جنرل ایڈمنسٹریشن کو معطل کردیا
کراچی: پی اے سی نے اختیارات سے تجاوز کرکے محکمے کے سیکریٹری کے بجائے آڈٹ ورکنگ پیپرز پر دستخط کرنے والے محکمہ کالیج ایجوکیشن کے سیکشن آفسر جنرل ایڈمنسٹریشن کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے محکمہ کالیج ایجوکیشن کے سیکریٹری کو پی اے سی کے لئے محکمے کا کسی 19 ویں گریڈ کے ایڈیشنل سیکریٹری کو فوکل پرسن نامزد کرنے کا حکم دے دیا
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن قاسم سراج سومرو ، محکمہ کالیج ایجوکیشن کے سیکریٹری شھاب قمر انصاری، چیف انجنیئر ایجوکیشن ورکس سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں محکمہ کالیج ایجوکیشن کے ورکس سروسز کے متعلق سال 2024-2025ع کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا
پی اے سی کا اجلاس میں محکمہ کالیج ایجوکیشن ورکس کے افسران کیجانب سے مکمل آڈٹ پیراز کے متعلق ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر برہمی و افسران کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظھار۔
اجلاس میں آڈٹ کے ورکنگ پیپرز پر محکمے کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر ( سیکریٹری) کے دستخط کے بجائے محکمے کے سیکشن افسر و ڈی ڈی او کے دستخط موجود ہونے پر پی اے سی نے برہمی کا اظھار کیا۔
کمیٹی رکن قاسم سومرو نے کہا کہ آڈٹ کے ورکنگ پیپرز پر سیکریٹری کے بجائے سیکشن افسر نے دستخط کیوں کئے ہیں،آڈٹ ورکنگ پیپرز پر دستخط کرنے کا مجاز محکمے کا سیکریٹری ہے سیکشن افسر یا ڈی ڈی او نہیں؟
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ سیکریٹری کے بجائے سیکشن افسر نے آڈٹ کے کاغذات پر دستخط کرکے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
پی اے سی نے اختیارات سے تجاوز کرکے محکمے کے سیکریٹری کے بجائے آڈٹ ورکنگ پیپرز پر دستخط کرنے والے محکمہ کالیج ایجوکیشن کے سیکشن آفسر جنرل ایڈمنسٹریشن غلام مصطفی کو معطل کردیا۔
