ڈی آئی ایسٹ کا آباد کی شکایات حل کرنے کے لئے فوکل پرسن مقرر کرنے کا اعلان
کراچی: ڈی آئی جی پولیس ڈسٹرکٹ ایسٹ ڈاکٹر فرخ علی نے کہا ہے کہ کراچی شہر میں سب سے بڑا مسلہ زمینوں پر قبضوں کا ہے،آباد کو چاہیے کہ سندھ حکومت کے ساتھ ملکر ایسی قانون سازی کی جائے جس سے زمینوں پر قبضوں سے متعلق فوری جانچ پڑتال کی جاسکے،ایسوسی ایشن آ ف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کا تعمیراتی شعبے اور ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ہے،آباد کے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کیے جائیں گےانھوں نے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں آباد ممبران کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کا اعلان کیا۔آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے کہا وزیر داخلہ وقانون ضیاالحسن لنجار کی سربراہی میں بننے والے این ٹی انکروچمنٹ اینڈ لینڈ گریبنگ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرایا جائے تو زمینوں پر قبضوں کے مسائل کافی حد حل کیے جاسکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آباد ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
آباد کے وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی،ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ فرخ رضا، ایس ایس ایس پی ملیر ڈاکٹرعبدالخالق اور آباد ممبران اور پولیس افسران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
ڈی آئی جی ڈاکٹر فرخ علی نے کہا کہ آباد ہمارے زون (ڈسٹرکٹ ایسٹ) کا اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ زمینوں پر قضبوں کا ہے۔زمینوں پر قبضہ کرنے والے فریق اور حقیقی فریق کی نشاندہی کرنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے، زمینوں پر قبضوں میں لینڈ گریبرز کے ساتھ ساتھ محکمہ ریونیو کا عملہ اور دیگر متلقہ اداروں کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔
انھوں نے آباد کے عہدیداران سے درخواست کی سندھ حکومت کے ساتھ ملکر قانونی مسودہ تیار کرکے سندھ اسمبلی سے پاس کرایا جائے جس سے زمینوں پر قبضوں سے متعلق فوری جانچ پڑتال اور معاملات عدالتوں میں جانے سے قبل ہی حل کیے جاسکیں۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سال 2002 سے قبل جعلی چیک دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنا انتہائی مشکل عمل ہوتا تھا لیکن قانون سازی کے بعد اب چیک باؤنس ہونے پر فوری کارروائی ہو جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ آباد کا کراچی شہر کی ترقی اور ملکی معیشت میں اہم کردار ہے،آباد کے مسائل حل کرنا ملکی معیشت کو ترقی دینے کے مترادف ہے۔
اس موقع پرآباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے کہا کہ پاکستان کا تعمیراتی شعبہ سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، تعمیرااتی شعبے کو نقصان پہنچانا پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت بلڈرزاور ڈیولپرز کا سب سے بڑا مسئلہ زمینوں پر قبضوں کاہے۔آباد کے ممبران بلڈرز کی زمینوں پر منظم طریقے سے قبضے کیے جارہے ہیں اور لینڈ گریبرز کو اینٹی انکروچمنٹ سیل اور ریونیوں کے کرپٹ عملے کی بھی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔
سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے کہا کہ ریونیو آفس کے ذریعے جعلی کھاتے بنا کرہمارے پلاٹوں پر قبضے کیے جارہے ہیں اور قبضے چھوڑنے کے لیے ہم سے اربوں روپے روپے مانگے جاتے ہیں۔
سید افضل حمید نے کہاکہ کراچی شہر کی 80 فیصد تعمیراتی سرگرمیاں ڈسٹرکٹ ایسٹ میں ہوتی ہیں جبکہ 54 فیصد آباد کے ممبران کے تعمیراتی پروجیکٹس ڈسٹرکٹ ایسٹ میں ہیں۔
سید افضل حمید نے کہا کہاگراینٹی انکروچمنٹ اینڈ لینڈ گریبنگ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے تو زمینوں پر قبضوں سمیت شہر کے بیشتر مسائل فوری حل ہوسکتے ہیں۔
آباد کے وائس چیئرمین طارق عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی ڈاکٹر فرخ علی کی آبادہاؤس آمد اور فوکل پرسن کے اعلان کے بعد امید پیدا ہوگئی کہ ضلع شرقی میں بلڈرز اور ڈیولپرز کے مسائل حل ہوسکیں گے۔
تقریب کے آخر میں آباد سدرن ریجن کے چیئرمین احمد اویس تھانوی نے ڈی آئی اور دیگر پولیس افسران کی جانب سے بلڈرز کے مسائل سننے اور انھیں حل کرنے کے عزم پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
