بارش وقفے وقفے سے ہوتی تو مسائل پیدا نہ ہوتے:شرجیل انعام میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ جون سے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے،یہ صرف پاکستان کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے،پاکستان کا ماحولیاتی تبدیلی میں کوئی بڑا حصہ نہیں، لیکن پاکستان کو اس کا اثر بھگتنا پڑا۔کے پی میں 427، پنجاب میں 165، سندھ میں 40 افراد کی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 22، آزاد جموں کشمیر میں 56 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے،تھرپارکر میں 198 ملی میٹر کی انتہائی شدید بارش ہوئی، 3 افراد جاں بحق اور 18 مویشی ہلاک ہوئے،کراچی میں 19 اگست کو سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی جس کا اوسط پورے شہر میں 120 ملی میٹر سے زائد رہا۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ منگھوپیر، کراچی ویسٹ میں سب سے زیادہ 246 ملی میٹر بارش ہوئی کورنگی ٹاؤن میں 190 ملی میٹر، گلزارِ ہجری میں 175 ملی میٹر اور نارتھ ناظم آباد میں 149 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگر بارش وقفے وقفے سے ہوتی تو مسائل پیدا نہ ہوتے،لگاتار بارش کے باعث شہریوں کو اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑا،منگھو پیر میں 246 ملی میٹر اور کورنگی میں 140 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،بلدیہ عظمیٰ نے نالوں کی صفائی پہلے ہی کروا دی تھی،سندھ حکومت پوری انتظامیہ کے ساتھ سڑکوں پر موجود رہی،شہریوں کو جو تکلیف ہوئی اس پر ہم معذرت خواہ ہیں،پانی کی نکاسی کے لیے ہیوی مشینری لگائی گئی تھی۔
پریس کانفرنس سے قبل سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صحافی خاور حسین کی مغفرت کے لئے دعا مانگی۔
