کراچی میں سرکاری سطح پر ہاؤسنگ کی اسکیمیں وقت کی ضرورت ہے: سید افضل حمید
بلدیاتی مقامی حکومتوں کے پاس وسائلِ نہیں ہیں،بلدیاتی اداروں میں اختیارات کی الگ لڑائی ہے
کراچی: آباد کے سینیئر نائب چیئرمین سید افضل حمید نے ہمدرد فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔
سید افضل حمید نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ کراچی میں شہریوں کے مسائل میں گزشتہ 25 سالوں میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا،کراچی میں سرکاری سطح پر ہاؤسنگ کی اسکیمیں وقت کی ضرورت ہے۔ ماضی میں ناظم آباد بفر زون سمیت و دیگر علاقوں میں ٹاؤن پلینگ کیلئے اسکیمیں متعارف کرائی گئیں۔ ماضی کھیلوں کے حوالے سے نوجوانوں کیلئے اسٹڈیم قائم کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکیمیں اپنی الگ انفرادیت رکھتی ہیں۔ کراچی میں آبادی کا ریشو بڑھتا جارہا ہے، اس شہر میں گھروں کی کمی کا سامنا افسوسناک ہے۔شہر میں اداروں کو تقسیم کرکے مختلف اتھارٹی کی قائم کردہ گئیں،اس تقسیم سے سالوں سال میں کوئی اسکیم عوام کو فراہم نہیں کی گئی،جس کے باعث عوام کا پیسہ بھی ڈوب گیا اور مسائل میں اضاضہ بھی ہوا۔
سید افضل حمید کا کہنا تھا کہ کراچی میں جمہوری اور بااختیار مقامی حکومت سنجیدگی ضروری ہے۔ کراچی کے انفراسٹرچر کو بہتر بنانے کیلئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر سب سے بڑی زمہ داری عائد ہوتی ہے۔بلدیاتی مقامی حکومتوں کے پاس وسائلِ نہیں ہیں،بلدیاتی اداروں میں اختیارات کی الگ لڑائی ہے۔ کراچی کے شہریوں کو آج تک صحیح آگاہی نہیں دی جاسکی۔ ہاؤسنگ سیکٹر کے حوالے سے حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔
آباد کے سینیئر نائب چیئرمین نے کہا کہ ہاؤسنگ انڈسٹری کیلئے ٹیکس پالیسی موجود نہیں ہے،لینڈ کو ڈیجٹلائز کردیا جائے تو رہائشی بحران میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ عام شہریوں میں ہاؤسنگ سیکٹرز کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال ہے۔ ہم چاہتے ہیں زمینوں کی فراہمی حکومت کی جانب سے اکشن کے زریعے کی جائے۔ حکومت کو اکشن کے نتیجے میں کرپشن میں کمی واضح نظر آئے گی۔ مڈل کلاس طبقے کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس کا اپنا ایڈریس ہوتا ۔
سید افضل حمید نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے ہاؤسنگ کیلئے حکومت کو بےشمار تجاویز دی گئیں،پوری دنیا میں 6 فیصد تک حکومت ہاؤسنگ فائنس کرتی ہے۔فائنانس کیلئے جو ادارے ہیں وہ غیر فعال ہیں۔حکومت عام آدمی کیلئے آسان اقساط پر گھروں کی فراہمی یقینی بنائے۔ قسط اتنی مقرر کی جائے جتنا ایک عام گھر کا کرایہ ہوتا ہے۔
آباد کے سینیئر نائب چیئرمین سید افضل حمید نے کہا کہ کراچی میں کچی آبادیوں کا مسئلہ بھی ایک سنگین معاملہ ہے۔ شہرمیں 500 سے زائد مخدوش عمارتیں موجود ہیں۔60 سے 70 عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔شہر میں جاری غیر قانونی عمارتوں کا کوئی نقشہ پاس نہیں ہوتا۔15 فیصد غیر قانونی جبکہ 85 فیصد شہر میں غیر قانونی تعمیرات ہے۔ تعمیراتی شعبے کے حوالے سے حکومت نے مسودہ تیار کرلیا ہے۔مسودہ پر قانونی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس شہر میں بغیر ماسٹر پلان کے ٹاؤن اتھارٹی بنائی گئی۔اداروں نے اپنا کام چھوڑ دیا جس کے باعث مسائل میں اضاضہ ہوا۔
