کراچی:سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے زیر اہتمام منگل کو یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں منعقدہ سیمینار میں نامور ماہرین تعلیم نے پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ انسان دوست عبدالستار ایدھی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے خدمات نے انہیں لافانی زندگی عطا کی ہے اور ان کی خدمات کو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔
سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے ملیر کیمپس کے ایک اکیڈمک بلاک کو عبدالستار ایدھی کے نام کرنے کا اعلان کیا تاکہ ملک کے غریب اور پسماندہ لوگوں کے لیے ان کی بے مثال خدمات کو سلام پیش کیا جا سکے۔ ڈاکٹر مجیب صحرائی نے کہا کہ ہم ایک انتظامی بلاک کا نام عبدالستار ایدھی کے نام پر رکھ سکتے ہیں لیکن ہم ایک اکیڈمک بلاک کا نام اس مقصد کے لیے رکھتے ہیں کہ ہماری نئی نسلیں ان کا نام یاد رکھیں اور ان کی خدمات سے سیکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلیں۔ ان کا خیال تھا کہ انہوں نے دنیا کے مختلف مخیر حضرات کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن عبدالستار ایدھی جیسا کوئی نہیں نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عبدالستار ایدھی کے علاوہ دوسری ایسی عظیم شخصیت ڈاکٹر ادیب رضوی ہیں جنہوں نے بلا تفریق عام لوگوں کے لیے بے لوث کام کیا ہے۔ ہمارے شہروں اور دیہی علاقوں میں اور بھی مخیر حضرات ہوسکتے ہیں، لیکن عبدالستار ایدھی اور ڈاکٹر ادیب رضوی کی خدمات دوسروں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ہم سب کو انسانی خدمت کے عظیم مقصد کو اختیار کرںا چاہیے اور عبدالستار ایدھی کی زندگی کے اسباق پر عمل کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر مجیب صحرائی نے سندھ مدرستہ الاسلام کے بانی خان بہادر حسن علی آفندی، ڈی جے کالج کے بانی دیارام جیٹھمل، طالب مولا ہائی اسکول، دادو کے بانی تاج صحرائی اور دادو کے ڈاکٹر عبدالکریم قریشی کو بھی زبرست خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی پوری زندگی عوام کی خدمت کی۔
ایس ایم آئی یو کے ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ، بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ کامرس ڈاکٹر جمشید عادل ہالیپوٹو نے کہا کہ عبدالستار ایدھی نے یتیم بچوں کو ایک نام دیا اور انہیں پناہ اور تعلیم فراہم کی، یہ انسانیت کے لیے ان کا عظیم کام تھا۔
ڈاکٹر سبھاش، چیئرمین شعبہ سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز نے اپنے خطاب میں پاکستان کی آزادی سے پہلے اور بعد میں کراچی شہر میں مخیر حضرات کے کاموں کی تاریخ پر بات کی اور کہا کہ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہرچندرائے وشنداس اور جمشید نسروانجی عظیم انسانی خدمت گار کے طور پر جانے جاتے تھے، قیام پاکستان کے بعد عبدالستار ایدھی نے اپنی جوانی میں غریبوں کی دیکھ بھال شروع کی۔ یہ انسانیت کی خدمت میں ان کی عظیم خدمات تھیں۔
عظمیٰ بتول نے عبدالستار ایدھی کی زندگی کا خاکہ پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔ تقریب کی نظامت محترمہ سُندس نثار نے کی۔
