کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے عیدالاضحی کے تینوں روز صفائی ستھرائی کے انتہائی ناقص انتظامات اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) کی سنگین نااہلی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ کراچی اور سندھ کے لیے ایک سفید ہاتھی بن چکا ہے جو ہر سال اربوں روپے ہڑپ کرنے کے باوجود شہر کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کیے رکھتا ہے۔
نیو کراچی ٹاؤن آفس میں منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ اگر نیو کراچی ٹاؤن کی اپنی مقامی انتظامیہ پیشگی حکمت عملی اور بیک اپ پلان کے تحت متحرک نہ ہوتی تو عید کے ایام میں شہر کا یہ علاقہ بدترین تعفن اور غلاظت کا شکار ہو چکا ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹاؤن کا سینی ٹیشن ڈیپارٹمنٹ، سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں دن رات کام کرتا رہا اور قربانی کی آلائشیں اور کچرا بروقت صاف کرتا رہا، جبکہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور اس کے ڈپٹی ڈائریکٹرماضی کی طرح کارکردگی دکھانے میں مکمل ناکام رہے۔
چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ناقص منصوبہ بندی،کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے کراچی کے عوام ہر تہوار پر اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ادارے کی اندرونی سیاست، افسران کی آپسی چپقلش اور کم سے کم مشینری اور افرادی قوت کے ساتھ کام کرنے کی روش نے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک شخص کو نیو کراچی اور نارتھ ناظم آباد جیسے بڑے اور گنجان آباد علاقوں کی صفائی کی ذمہ داری دینا وہ بھی کم ترین وسائل کے ساتھ، کھلی بدانتظامی اور کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ایم ڈی نے اپنی ناقص کارکردگی چھپانے کے لیے نیو کراچی اور نارتھ ناظم آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر SSWMB نعمت اللہ لاشاری کو عہدے سے برطرف کر کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ مسئلہ صرف ایک ڈپٹی ڈائریکٹر SSWMB نیو کراچی کا نہیں بلکہ پورے نظام کی خرابی کا ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا ادارہ پچھلے کئی برسوں سے مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور یہ کراچی اور سندھ کے شہریوں کے ٹیکس کا پیسہ ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے اپنے وزراء اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی اس ادارے کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں، پھر آخر کون سی قوت ہے جو اس ناکارہ ادارے کو زبردستی قائم رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے چینی کمپنیوں کے کردار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنیاں کراچی کے وسائل لوٹ رہی ہیں، جبکہ شہر کچرے کے ڈھیر میں ڈوبا ہوا ہے۔
چیئرمین محمد یوسف نے سندھ حکومت سے پرزور اور دو ٹوک مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو فی الفور ختم کیا جائے اور اس کے تمام اختیارات اور وسائل براہِ راست بلدیاتی اداروں، ٹاؤن اور یونین کونسلز کے سپرد کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل بروقت اور مؤثر طور پر حل کیے جا سکیں۔ اس ادارے کا وجود صوبے اور شہر کے لیے بوجھ بن چکا ہے اور جتنی جلد اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے،اتنا ہی کراچی اور سندھ کے شہریوں کے لیے بہتر ہو گا۔انہوں نے واضح کیا کہ نیو کراچی ٹاؤن انتظامیہ کی کوششوں کے باعث ہی عید کے تین روز میں 95 فیصد علاقہ کلیئر کیا جا سکا، ورنہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی حالت یہ تھی کہ وہ کسی ایک علاقے میں بھی مکمل صفائی کا کام سر انجام نہیں دے سکا۔ چیئرمین نے کہا کہ یہ ناقابلِ برداشت صورتحال ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے اور کراچی و سندھ کے عوام کو اس نااہل ادارے سے نجات دلائے۔
