ماحولیاتی تحفظ:سندھ حکومت کا اسمارٹ سرویلنس سسٹم متعارف کرانےکا فیصلہ

کراچی: سندھ حکومت نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے اسمارٹ سرویلنس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیاہے۔ سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ آغا شاہنواز نے اعلان کیا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ایک سال میں ایسا سسٹم لانا چاہتے ہیں جو پرانی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی خود نشاندہی کرےاور ٹریفک پولیس کے ساتھ لائزن ہوکر چالان کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سیکریٹری ماحولیات آغا شاہنوازنے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلی،صنعتی آلودگی اور ساحلی تحفظ کے حوالے سے پانچویں اہم اجلاس میں کیا۔

اجلاس میں ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو،ڈائریکٹر نیچرل ریسورسزعمران صابر، صنعتکاروں، ٹرانسپورٹرز، ماحولیاتی ماہرین ودیگراسٹیک ہولڈرزنے بھی شرکت کی۔

FPCCIکےسینئر وائس پریزیڈنٹ ثاقب فیاض مگون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس کے تناظر میں چھوٹی فیکٹریاں ویسٹ واٹر پلانٹ نہیں لگا سکتی۔ حکومت اس معاملے پر جامع حکمت عملی بنائے۔ ماحول کا خیال رکھنا ناگزیر ہے۔ آج نہ سوچا تو جی ایس پی پلس سے بھی باہر ہوجائیں گے۔

ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو نے کہا کہ صنعتکار سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ صنعتی فضلہ خصوصاً ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بعد خارج کریں تاکہ آبی حیات محفوظ رہے اور خطرناک کچرا انسینریشن پلانٹس کے ذریعے تلف کیا جائے۔ سیپا کی وہیکولر ایمیشن مہم جاری ہے اورصنعتی گاڑیوں کی مانیٹرنگ بھی جلد شروع کی جائے گی۔ ماحولیاتی ماہرین نے اجلاس میں آگاہ کیا کہ پانی کی کمی کے باعث مینگرووز تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں جو سمندری حیات کے تحفظ اور ساحلی علاقوں کو قدرتی آفات سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

سیکریٹری ماحولیات آغا شاہنواز نے جواب دیا کہ لوگ صرف میرین لائف کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماہی گیر بھوک، بیماری اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں پانی کی شدید قلت اور ڈیلٹا کی خشکی کے باعث انسانی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ کوٹری بیراج پر پانی کی 53 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

آغا شاہنواز نے تجویز دی کہ فوری طور پر ایک مربوط ہنگامی کمیٹی بنائی جائے جس میں صنعتکار، ماہرین، ٹرانسپورٹرز، سالڈ ویسٹ ادارے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں تاکہ ایک مؤثر قومی حکمت عملی بنائی جا سکے۔ کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلٹی مؤثر ذریعہ ہے جس سے مربوط حکمت عملی کے تحت ماحولیاتی تبدیلی ممکن ہے۔ اجلاس کے اختتام پر سیکریٹری ماحولیات آغا شاہنواز اور ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو کو گلدستے پیش کیے گئے جبکہ صنعتکاروں نے حکومتی اقدامات کو سراہا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں