کوئٹہ: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہے کہا کہ بلوچستان میں ایک فقیدالمثال اجتماع منعقد ہورہا ہے، کراچی پنجاب اور پشتونخوا کے بعد بلوچستان میں عوام کا سب سے بڑا اجتماع منعقد ہورہا ہے۔ ان اجتماعات میں غزہ کے مسلمانوں کے لیے اپنا نقطہ نظر واضع کریں۔
انہوں نے کہا کہ ان اجتماعات میں نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ آپ کہ سامنے سر نہیں جھکائے گے۔ جب غزہ پر حملہ ہوا تو مودی نے اسرائیل کی حمایت کرکے ہندوستان کی تاریخ میں نفی کی۔اسرائیل شروع دن سے پاکستان کا مخالف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے مودی کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کیا ،پاکستان نے جو بھارت کو جواب دیا اس پر میں کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان نے بدلا لے لیا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ جے یو آئی نے آج حکمرانوں کو کہنے پر مجبور کیا کہ اسرائیل اور ہندوستان ایک ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ہمارے حکمران ہماری فوج اور ہوابازوں کو اور جان نثاروں کو حکم دیں تو ہم اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجانے کو تیار ہیں۔ ٹرمپ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کی پشت پناہی سے باز آجائے۔امت مسلمہ غیرت مند ہیں حکمرانوں کو چاہئے کہ غیرت کا مظاہرہ کریں۔اگر پاکستان ہندوستان کے غرور کو خاک میں ملا سکتا ہے تو امت مسلمہ کے حکمران اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔پہلگام پر حملے کے ساتھ ہندوستان نے بغیر تحقیق کے پاکستان کو مورد الزام ٹہرایا۔ یکطرفہ طور پر ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے کو ختم کیا۔مودی طاقت کے زور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا۔
جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مودی کو ایسے جواب دیا گیا کہ اب وہ شرمندگی کی وجہ سے اسمبلی میں نہیں بیٹھ سکتا،حکمرانوں کو۔ ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو یکجہتی کو متاثر کرے، دریائے سندھ سے کینال نکالنے کی بات کرکے قومی یکجہتی کو متاثر کرنے کی کوشش کی،پاکستان کی استقلال، استقامت پر کوئی کمرومائز کے لیے تیار نہیں۔لیکن بلوچستان اور صوبوں کے جو حقوق ہیں وہ بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے لوگوں کے ہیں۔حکمرانوں کو بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے لوگوں کے حقوق دینے پڑے گے۔مائنز اینڈ منرل بلز کو واپس لینا پڑے گا۔سود اور مدارس کے حوالے سے ہمارے ساتھ جو وعدے کئے گئے ان پر عمل کرنا پڑے گا۔
