دریائے سندھ کا تحفظ ہر قیمت پر کریں گے: علامہ راشد محمود سومرو
سکھر :جمعیت علماء اسلام سندھ کے امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی ، سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ دریائے سندھ سندھ کی زندگی، ثقافت اور معیشت کی بنیاد ہے۔ سندھ کے دریائی پانی پر کسی قسم کا ڈاکہ یا قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ سندھ کے عوام اپنے وسائل کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں وہ سکھر میں روہڑی انٹرچینج پر جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے زیراہتمام دھرنے سے خطاب کررہے تھے ۔
علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ اگر 2 مئی تک دریائے سندھ پر متنازعہ کینالز کے نوٹیفکیشن منسوخ نہ ہوئے تو جمعیت علماء اسلام سندھ کی قیادت میں عوام 5 مئی کو پورٹ قاسم اور 6 مئی کو کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) بند کر دیں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر وفاق نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو عوامی طوفان کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
اس موقع پر جے یو آئی کے دیگر قائدین ، انجینئر عبدالرزاق عابد لاکھو ، سراج احمد شاہ امروٹی، مولانا ناصر محمود سومرو ، مفتی سعود افضل ہالیجوی، سلیم سندھی ، حافظ عبدالحمید مہر اور دیگر نے بھی خطاب کیا سکھر روہڑی انٹرچینج پر دھرنے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی
علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ پیپلز پارٹی قبل از وقت جشن منا رہی ہے، لیکن ہم اصل جشن اس وقت منائیں گے جب سندھ کے پانی پر قبضے کی سازشیں دفن ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر 2 مئی کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں سندھ کا مقدمہ ہار دیا گیا تو حکمرانوں کو عوام کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی سندھ، پنجاب سے سندھ کا حق چھین کر رہے گی۔ سندھ کے عوام کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ فارم 47 کی پیداوار حکمران سندھ کے خیرخواہ نہیں ہیں۔ زرداری سندھ کا وارث نہیں بلکہ سندھ کے اصل وارث سندھ کے عوام ہیں۔
علامہ راشد سومرو نے اعلان کیا کہ سندھ کے پانی کے تحفظ کے لیے جے یو آئی سندھ نے تین اہم مقامات پر دھرنوں کا آغاز کر دیا ہے:
انہوں نے کہا کہ ہم نے اس مقصد کیلئے آج سکھر موٹروے انٹرچینج اور گزشتہ روز انڈس ہائی وے کندھکوٹ ، نیشنل ہائی وے گھوٹکی پر دھرنے دیئے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ابتدائی مرحلہ ہے۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یہ دھرنے مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گے اور سندھ پنجاب بارڈر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ دریائے سندھ پر ڈاکہ آئینی، قانونی اور شرعی طور پر نامنظور ہے۔ سندھ کے پانی کی چوری کے خلاف شرعی فتویٰ بھی جاری ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کا اختیار نہ کسی عدالت کو ہے نہ کسی اسمبلی کو۔ فیصلے صرف عوام کریں گے، نہ کہ سی سی آئی یا ارسا۔
علامہ راشد سومرو نے کہا کہ وفاقی حکومت اگر اپنے استحصالی رویے سے باز نہ آئی تو پاکستان کی وحدت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مشرقی پاکستان اسی طرز عمل کے نتیجے میں علیحدہ ہوا، اور آج بھی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ سندھ میں بھی بغاوت کے آثار پیدا ہو رہے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری وفاق پر عائد ہوگی۔
