کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی فائن آرٹ کمیٹی کے زیراہتمام فن مصوری پر مبنی نشست اور آرٹ ایگزیبیشن Curatorial Confessions کا انعقاد کیاگیا جس میں فائن آرٹ کمیٹی کے چیئرمین فرخ شہاب، ایم ذیشان، فراز صدیقی(کراچی والا)، عمائنہ خان نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض شماما حسنے نے انجام دیے۔
اس موقع پر فائن آرٹ کمیٹی کے چیئرمین فرخ شہاب نے کہاکہ 40سال پہلے تخلیق کرنے والےکا تصور ایسا نہیں تھا جیسا آج ہے، پہلے استاد اور شاگردی والا ماحول ہوتا تھا ، ڈیجیٹل میڈیا نہیں تھا، خبر کی رسائی اتنی آسان نہیں جتنی آج ہے، اس دور میں ہم یہ سوچتے تھے دیوار میں کیل ٹھونکنی ہے یا نہیں
انہوں نے بتایا کہ پہلے سندھ آرٹ ایگزیبیشن ہوتی تھی جس میں ہم کام کرتے تھے، ورلڈ کلچر فیسٹیول میں بین الاقوامی ممالک سے آئے ہوئے نئی نسل کے تخلیقی آرٹسٹوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، تخلیق کرنے والا ایک طرح کا ڈائریکٹر ہی ہوتا ہے۔
فرخ شہاب نے کہاکہ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ فن و ثقافت کے فروغ کے لیے بھرپور کام کررہے ہیں ۔
آرٹسٹ محمد ذیشان نے کہاکہ آرٹسٹ کو ہمیشہ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا چاہیے کیونکہ ایک آرٹسٹ کے لیے سامنے نظر آنے والی ہر چیز میڈیم ہے، ہر ملک میں کام کرنے کا طریقہ الگ ہوتا ہے، آرٹ میں استعمال ہونے والا میٹریل، لائٹ یہاں تک کے گیلری سمیت ہر چیز اہمیت کی حامل ہوتی ہے،
انہوں نے کہاکہ آرٹسٹ کو یہ بیماری ہوتی ہے کہ وہ آخری لمحات تک کوئی نہ کوئی کام کررہا ہوتا ہے، فراز صدیقی نے کہاکہ کسی بھی ایگزیبیشن کے لیے لوگوں سے رابطہ میں ضروری ہے، مجھے چیلنجز بہت پسند ہیں، اگر کسی آرٹسٹ کو اپنا کام پسند نہیں آتا تو وہ دوبارہ اچھا کرنے کی کوشش کرے اور بہت سے آرٹسٹ کامیاب بھی ہوتے ہیں ان کے کام کی قدر ایک آرٹسٹ ہی بتا سکتا ہے۔
عمائنہ خان نے کہاکہ آرٹسٹ کا کام صرف آرٹ گیلری تک محدود نہیں رہنا چاہیے عوام عوام کو بھی آرٹ کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی رائے دے سکے، آخر میں تمام شرکاءنے احمد پرویز آرٹ گیلری میں لگی اسکیچنگ، ڈرائنگ اور پینٹنگ ڈسپلے کا جائزہ لے کر فنکاروں کے کام کو سراہا۔
