کراچی: تمام متعلقہ ادارے کراچی کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے، حکومت سندھ اور صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات نے اتفاق کیا ہے
قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لئے بھی مشترکہ کاشوں کا فیصلہ
بزنس فسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی کی ٹرانسپورٹ پر سب کمیٹی کا سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اجلاس ہوا
اجلاس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خالد حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایم ٹی اے کمال دایو، سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور چانڈیو، ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر حکام نے شرکت کی
اجلاس میں معروف صنعتکار عارف حبیب، کاٹی کے صدر جنید نقی، دانش دیوان، زبیر چھایا شریک
ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کمال ڈایو نے ماس ٹرانزٹ سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دی اور شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات پیش کیے
اجلاس میں موٹر وہیکل انسپیکشن سسٹم، ماس ٹرانزٹ انفراسٹرکچر کی بہتری، اور کاروباری ٹرانسپورٹ سے متعلقہ مسائل پر غور کیا گیا
صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کی جانب سے حکومت سندھ کی جانب سے پبلک پرائیوٹ پاٹنرشپ منصوبوں کی تعریف
ٹرانسپورٹ کے شعبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانا حکومت سندھ کا تاریخی اور قابل تحسین کام ہے، صنعتکار اور کاروباری شخصیات
معروف صنعتکار عارف حبیب کا امپورٹرز اور ایکسورٹرز کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان تعاون پر زور
عارف حبیب نے کہا کہ قانون کی پاسداری ہر طبقے پر لازم ہے تاکہ ایک منصفانہ اور قانونی طریقے سے تجارت اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیے جا سکیں، زبیر چھایا نے انفراسٹرکچر کے لیے سیس فنڈز کے استعمال کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی
زبیر چھایا کا کہنا تھا کہ فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک واضح طریقہ کار ہونا چاہیے تاکہ ٹرانسپورٹ سہولیات اور سڑکوں کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔
صدر کاٹی جنید نقی نے کہا کہ عوام اور کاروباری برادری کو ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے قوانین سے آگاہ کرنے کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہم چلائی جائے،بہتر آگاہی سے ٹرانسپورٹ کے نظام میں ڈسپلن آئے گا، جس سے ٹریفک جام اور روڈ سیفٹی کے مسائل کم ہوں گے،
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت ٹرانسپورٹ قوانین کے سخت نفاذ کو یقینی بنائے گی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت جلد ہی برآمد کنندگان اور ٹرانسپورٹ سے متعلقہ مسائل کو حل کرے گی،پورے صوبے میں غیر قانونی طور پر قابض ٹرانسپورٹ لینڈز کو ایک ماہ کے اندر واگزار کرایا جائے گا تاکہ بس ٹرمینلز کے مسائل حل کیے جا سکیں،حکومت جلد ہی ایک نئی الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی متعارف کرانے والی ہے، جس میں غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔
