وزیراعلیٰ سندھ نے انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا،1 کروڑ 6 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فروری 2025 کے لیے قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں  بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پولیو کے خاتمے اور صوبے بھر میں بچوں کے لیے صحت مند مستقبل کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔

افتتاحی تقریب پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوئی جس میں سیکرٹری صحت ریحان بلوچ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی، ای او سی کے کوآرڈینیٹر ارشد سوڈھڑ، روٹری کے عزیز میمن اور دیگر افراد نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے زور دیا کہ پولیو کے خاتمے کی مہم صرف صحت کا معاملہ نہیں بلکہ سندھ کے بچوں کی فلاح کے لیے ایک اہم لڑائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پختہ عزم ہے کہ سندھ میں کوئی بھی بچہ اس موذی بیماری کا شکار نہ ہو۔ سندھ حکومت اس مشن میں مکمل طور پر سرگرم ہے اور وہ ذاتی طور پر مہم کی نگرانی کریں گے۔

ویکسی نیشن مہم 3 فروری سے 9 فروری تک جاری رہے گی اور اس کا مقصد سندھ بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 6 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ہر بچے کو ویکسین لگانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے۔

مراد علی شاہ  نے کہا کہ سال 2024 میں پاکستان کے 73 پولیو کیسز میں سے 22 سندھ میں رپورٹ ہوئے۔ 2025 کا پہلا کیس خیبر پختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان میں سامنے آ چکا ہے جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پولیو وائرس اب بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ ماحولیاتی نگرانی کے دوران سندھ کے کئی علاقوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جو مسلسل چوکنا رہنے کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے سندھ کے 82 ہزار فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی لگن کو سراہا جو مشکل حالات کے باوجود گھر گھر جا کر بچوں کو اس موذی بیماری سے بچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورکرز اس مہم کے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 21,844 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے سندھ پولیس کی صحت عامہ کی ٹیموں کو محفوظ بنانے کی کاوشوں پر گہری تعریف کا اظہار بھی کیا۔

پولیو ویکسینیشن مہم میں کسی بھی مزاحمت کے خلاف سخت پیغام دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہماری پولیو ٹیموں کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا رکاوٹ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جو بھی اس مہم میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ورکرز محض طبی عملہ نہیں بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے محافظ ہیں اور وہ ہمارے مکمل احترام اور حمایت کے مستحق ہیں۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کی جانب سے تیار کردہ نیا کارکردگی اسکور کارڈ بھی متعارف کرایا جو ضلعی سطح پر مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے اضلاع کو سراہا جائے گا جبکہ ناقص کارکردگی والے علاقوں کی جوابدہی کی جائےگی۔

وزیر اعلیٰ نے مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، کمیونٹی کے بزرگوں اور بااثر شخصیات سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور شرکت کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر اپنی اجتماعی کوششوں سے سندھ اور پاکستان کو پولیو سے پاک بنائیں گے۔ یہ تاریخ کا حصہ بننے کا ہمارا موقع ہے اور ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کو پورا کریں گے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں