پریا کماری کی بازیابی کیلے ایک بار پھر ہر فورم پر آواز اٹھانے کا فیصلہ

کراچی: پریا کماری ایکشن کمیٹی کی جانب سے کراچی پریس کلب میں پریا کماری کی بازیابی کیلے سیمینار منعقد کیا گیا۔

سیمینار میں مبینہ مغویہ پریا کماری کے والد راجو نارائی، مہیش کمار، لیاقت جلبانی، سینیئر صحافی مظھر عباس، ایڈووکیٹ علی پلھ، ڈاکٹر جیپال چھابڑیا، مرک منان، سماجی رہنما نرمہ، سہنی پارس و دیگر نے شرکت کی۔

صحافی و سماجی رہنما مہیش کمار کا کہنا تھا کہ پریا کماری کے لے ہم نے ہر فورم پر آواز بلند کی ہے مگر کہیں سے بھی کامیابی نہیں ملی،اب ہم آپ کے پاس آئے ہیں، حکمرانوں کے بیانات سے ایسے لگتا تھا کہ جیسے پریا ابھی بازیاب ہو رہی ہے مگر آج تک ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر داخلہ بھی کہہ چکے ہیں کے پریا زندہ ہے مگر ابھی تک کو نتیجا نہیں مل سکا، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہر فورم پر ایک بار پھر آواز اٹھائی جائے گی۔

ایڈووکیٹ علی پلھ نے کہا کہ ڈی آئی جی اے ڈی خواجہ کے سسپنسڈ ہونے کے بعد اب تو جے آئی ٹی بھی ٹوٹ چکی ہے، حکومت سنجیدہ ہوتی تو ایک بار پھر جے آئی ٹی تشکیل دی جاتی۔ سندھ چائیلڈ پروٹیکشن کو آواز اٹھانی چاہیے۔ اب بہت ہو گیا،

سیمینار میں نوید لاشاری کے والد بھی موجود تھے اور شرکاء کو بتایا کہ میرا بیٹا دو سال سے اغو ہے مگر اسے بازیاب نہیں کرایا جا سکا، میں غریب ہوں اس لئے میری آواز نہیں سنی جاتی، آپ سب سے مدد کی اپیل کرتاہوں۔

پریا کماری کے والد راجو نارائی کا کہنا تھا کہ چھار سال ہونے والے ہیں مگر ابھی تک پریا کو بازیاب نہیں کروایا گیا، جو بھی آیا صرف آسرے دیکر چلاگیا، پریا کی والدہ رو رو کر بیحال ہوگئی ہیں، سندھ حکومت و اعلیٰ حکام سے اپیل کرتاہوں کہ پریا کو فوری طور پر بازیاب کرواکر ہمارے حوالے کریں۔

سینیئر صحافی مظھر عباس نے کہا کہ پریا کماری اور نوید لاشاری کے والدین کس کے پاس جائیں، پریا کماری اگر بازیاب نہیں ہورہی تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، سندھ کے لوگ جن کو ووٹ دیتے ہیں کیا وہ ان کی آواز بنتے ہیں۔میں مطالبہ کررتا ہوں کے پریا کماری اور نوید لاشاری کو بازیاب کروایا جائے۔

https:/pakistan/13232/

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں